حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 150 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 150

حیات احمد ۱۵۰ بیعت کے لئے مخلصین کا اصرار جلد دوم حصہ دوم اسی سال ۱۸۸۳ء میں مخلصین کے قلوب میں یہ تحریک شروع ہوئی کہ حضرت اقدس ان سے بیعت لیں مختلف رنگوں میں مختلف اشخاص نے اس خواہش کو پیش کیا مگر آپ نے سب کو ایک ہی جواب دیا گو اس کے الفاظ کچھ اور ہوں یا اسلوب بیان دوسرا ہو وہ جواب یہی تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بیعت لینے پر مامور نہیں فرمایا۔اگر چہ آپ کے کلام سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی اس وحی سے جو آپ پر نازل ہو رہی تھی آپ سمجھتے تھے کہ کسی عظیم الشان کام کے لئے آپ مامور ہو رہے ہیں۔لیکن بیعت کے لئے صراحتا کوئی حکم نہیں ہوا تھا اس لئے آپ ایسے شائقین کو یہی جواب دیتے تھے:۔لَسْتُ بِمَأْمُورٍ ( میں مامور نہیں ہوں ) لود ہانہ کے دوستوں میں یہ جوش خصوصیت سے زیادہ تھا اور اس لئے وہ بار بار آپ کو وہاں بلانے کی دعوت دیتے تھے۔آپ نے لودہانہ کے سفر کو بھی ملتوی فرمایا ایسے لوگوں کو بھی مزید انکشاف کے لئے انتظار کا ارشاد فرمایا۔ان لوگوں میں حضرت مولوی عبد القادر صاحب رضی اللہ عنہ پیش پیش تھے آپ نے ان کو بذریعہ میر عباس علی صاحب لکھا کہ۔’اس عاجز کی فطرت پر تو حید اور تفویض الی اللہ غالب ہے اور معاملہ حضرت احدیت بھی یہی ہے کہ خود روی کے کاموں سے منع کیا جاتا ہے یہ مخاطبت حضرت احدیت بار بار ہو چکی ہے لَا تَقْفُ مَالَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ وَلَا تَقُل لِّشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا۔چونکہ بیعت کے بارے میں اب تک خدا وند کریم کی طرف سے کچھ علم نہیں اس لئے تکلف کی راہ میں قدم رکھنا جائز نہیں لَعَلَّ اللهُ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْرًا - مولوی صاحب اخوت دین کے بڑھانے میں کوشش کریں اور اخلاص اور محبت کے چشمہ صافی سے اس پودہ کی پرورش میں مصروف رہیں تو یہی طریق انشاء اللہ بہت مفید ہوگا۔“