حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 115 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 115

حیات احمد ۱۱۵ جلد دوم حصہ اول اس واقعہ سے ہی شَقِ صدر کی حقیقت بھی سمجھ میں آتی ہے۔فرماتے ہیں کہ : ” میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔اُس نے مجھے ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالی ہیں اور صاف کی ہیں اور میل اور کدورت اُن میں سے پھینک دی اور ہر ایک بیماری اور کو تہ بینی کا مادہ نکال دیا ہے۔اور ایک مصفی نور جو آنکھوں میں پہلے سے موجود تھا مگر بعض مواد کے نیچے دبا ہوا تھا اس کو ایک چمکتے ہوئے ستارہ کی طرح بنا دیا ہے اور یہ عمل کر کے پھر وہ شخص غائب ہو گیا اور میں اُس کشفی حالت سے بیداری کی طرف منتقل ہو گیا میں نے اس خواب کی بہت سے لوگوں کو اطلاع دی تھی چنانچہ اُن میں سے 66 صاحبزادہ سراج الحق صاحب سرساوی اور میر ناصر نواب صاحب دہلوی ہیں۔“ تریاق القلوب صفحه ۹۵ - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۵۲) یہ کشف صریح آپ کے نورعین اور نور فراست کی تیزی اور ہر قسم کے روحانی اور جسمانی امراض سے ( جو آنکھ کے متعلق ہو سکتے ہیں ) آپ کو محفوظ رکھنے کی پیشگوئی کرتا ہے۔آپ کی زندگی میں کبھی آپ کو آنکھ کا کوئی عارضہ نہیں ہوا۔اور تُو رفراست اور طہارۃ العین جو آپ کو دی گئی تھی اس کا تو دشمنوں نے بھی اعتراف کیا ہے۔اسی طرح پر آپ کی تطہیر کا بھی ایک واقعہ ہے اور آپ نے جو ترقی قرب الہی اور تعلق باللہ میں کی کسی مجاہدہ یا لیاقت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور رحمت کا نشان ہے اس کے متعلق بھی آپ نے ایک رؤیا دیکھی تھی۔اور یہ بھی اُنہیں ایام کی بات ہے۔بلکہ یہ رویا نورانی آنکھ والے، کشف سے ایک دن اول یا بعد دیکھی تھی۔آپ نے دیکھا ( بمقام گورداسپور ) کہ :- وو میں ایک جگہ چار پائی پر بیٹھا ہوں اور اُسی چار پائی پر بائیں طرف میرے مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم غزنوی بیٹھے ہیں جن کی اولاد اب امرتسر میں رہتی ہے۔اتنے میں میرے دل میں محض خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تحریک پیدا ہوئی کہ مولوی