حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 114
حیات احمد ۱۱۴ جلد دوم حصہ اوّل صاحبزادہ سراج الحق اُس وقت اپنے مریدوں کے حلقہ میں نہایت محترم تھے پیر زادگی کے باوجود اُن کی طبیعت میں طلب حق کا ایک زبر دست جذبہ تھا۔اور اسی لئے انہوں نے اس امر کی پرواہ نہیں کی کہ وہ اپنی سجادگی اور صاحبزادگی کی زنجیروں میں جکڑے رہیں آخر وہ مستقل طور پر حضرت صاحب کی خدمت میں آئے۔یہاں میں ان کے حالات زندگی نہیں لکھ رہا بلکہ حضرت کی زندگی کے واقعات کے سلسلہ میں تاریخی حیثیت سے اُن کی آمد کا ذکر کر رہا ہوں۔اس وقت تک خدا کے فضل سے پیر صاحب زندہ ہیں۔(۲۴ فروری ۱۹۳۱ء) حضرت اقدس کی آنکھوں کی صفائی کا معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شرح صدر اور شق سینہ کا ایک عظیم الشان نشان حضور کے سوانح حیات میں ہے۔مسلمانوں نے اس معجزہ کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے مجھ کو اس کی تفصیلات میں جانا نہیں لیکن یہ ایک واقعہ ہے کہ حضور کا شرح صدر ہوا اور جو واقعات اُس کے متعلق بیان کئے جاتے ہیں میں ان پر بھی ایمان لاتا ہوں کہ سب کچھ حق ہے لیکن یہ واقعات ایک ایسے کشفی رنگ میں ہوئے جو بیداری ہی کا واقعہ سمجھے جاتے ہیں اور اس کشف کی قوت واثر اتنا وسیع تھا کہ دوسروں نے بھی مشاہدہ کر لیا ہو تو تعجب نہیں۔روحانیات سے ناواقف لوگ ان کو ایسے پیرا یہ میں یا ایسے رنگ میں بیان کر دیتے ہیں کہ وہ موجب اعتراض ہو جاتا ہے ٹھیک اسی رنگ کا ایک واقعہ حضرت اقدس کے ساتھ بھی ہوا ہے اس واقعہ کی صحیح تاریخ متعین نہیں کی گئی لیکن آپ نے اس کے گواہوں میں صاحبزادہ سراج الحق کا نام لیا ہے اور حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کا بھی۔صاحبزادہ صاحب کے اپنے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اوّلاً ۱۸۸۱ء میں قادیان آئے ہیں اس لئے اسی واقعہ کے ایک شاہد ہونے کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ ۱۸۸۱ء یا غایت کار ۱۸۸۲ء کا ہوگا۔اور یہ واقعہ حضرت کی آنکھوں کی صفائی کا ہے۔