حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 49 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 49

حیات احمد ۴۹ جلد اوّل حصہ اول طرح ہے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ میری طرح میرے والد صاحب کا بھی آخر حصہ زندگی کا مصیبت اور غم اور حزن ہی میں گزرا اور جہاں ہاتھ ڈالا آخر نا کامی تھی۔اور اپنے والد صاحب یعنی میرے پردادا صاحب کا ایک شعر بھی سنایا کرتے تھے۔جس کا ایک مصرعہ راقم کو بھول گیا ہے۔اور دوسرا یہ ہے کہ ع جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہنستی ہے۔“ اور یہ غم اور در داُن کا پیرانہ سالی میں بہت بڑھ گیا تھا۔“ ) کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۸۹ تا ۱۹۱ حاشیه ) حضرت میرزا غلام مرتضی بہ حیثیت طبیب کے حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب ایک حاذق طبیب تھے اور ان کی طبعی قابلیت اور حذاقت مسلم تھی۔طب ان کے لئے ذریعہ معاش نہ تھا بلکہ محض نفع رسانی مخلوق کے لئے وہ اس شغل کو رکھتے تھے۔ان کے علاج میں جو بات قابل قدر ہوتی تھی وہ یہ تھی کہ علاج ہمیشہ سہل الحصول تجویز کیا کرتے امراء اور روساء جب ان کی طرف رجوع کرتے تو مرزا صاحب کی عادت تھی کہ طبقہ امراء میں جو کبر اور نخوت ہوتی ہے۔اس کی اصلاح کے لئے اوّلاً عدم توجہی فرماتے تھے غرباء کی طرف بہت جلد متوجہ ہوتے اور بعض اوقات قیمتی سے قیمتی ادویات بھی بڑی فیاضی سے دے ڈالتے تھے اور اگر مریض کو جا کر دیکھنے کی ضرورت ہوتی تو کبھی مضائقہ نہ فرماتے تھے۔ان کے طبی مشوروں اور معرکہ کے علاجوں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور ان کے دیکھنے والے ابھی زندہ ہیں۔مجھے اگر اس مضمون کے ضرورت سے زیادہ لمبا ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں درج کرتا۔تاہم ایک دو واقعات اس لئے درج کرتا ہوں کہ ان سے اندازہ ہو سکے کہ آپ کس غم خواری اور ہمدردی سے علاج کرتے اور معاً اس کو ذریعہ معاش بنانے سے کس طرح پر ہیز فرماتے۔طبی ذریعہ سے روپیہ کمانا شرعاً یا عرفاً نا جائز نہ تھا بلکہ طبتی پیشہ ہمیشہ ایک معزز اور قابل قدر پیشہ سمجھا گیا ہے۔جس کی ضرورت ایک گدا سے لے کر بادشاہ تک کو ہوتی ہے۔مگر با ایں