حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 48
حیات احمد ۴۸ جلد اوّل حصہ اول اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے تھے۔اور وہ یہ ہے۔از در تو اے کس ہر ہے کسے امید نیست امیدم که بروم اور کبھی درددل سے یہ شعرا اپنا پڑھا کرتے تھے۔باب دیده عشاق خاکپائے کے و مرا دلی است که در خون تپد بجائے کسے حضرت عزت جل شانہ کے سامنے خالی جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں ان پر غلبہ کرتی گئی تھی۔بارہا افسوس سے کہا کرتے تھے۔کہ دنیا کے بیہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر ناحق ضائع کر دی۔کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۸۷ تا۱۸۹ حاشیه) حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی رؤیا ایک مرتبہ حضرت والد صاحب نے یہ خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ایک بڑی شان کے ساتھ میرے مکان کی طرف چلے آتے ہیں۔جیسا کہ ایک عظیم الشان بادشاہ آتا ہے۔تو میں اس وقت آپ کی طرف پیشوائی کے لئے دوڑا۔جب قریب پہنچا تو میں نے سوچا کہ کچھ نذر پیش کرنی چاہئے۔یہ کہہ کر جیب میں ہاتھ ڈالا جس میں صرف ایک روپیہ تھا۔اور جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی کھوٹا ہے۔یہ دیکھ کر میں چشم پر آب ہو گیا اور پھر آنکھ کھل گئی۔اور پھر آپ ہی تعبیر فرمانے لگے۔کہ دنیا داری کے ساتھ خدا اور رسول کی محبت ایک کھوٹے روپیہ کی ا ترجمہ: اے وہ جس کے دروازے پر ہر کس و ناکس حاضر ہوتا ہے۔مجھے امید ہے کہ میں اس دروازے سے بے مراد نہیں رہوں گا۔کے ترجمہ: عاشقوں کے آنسوؤں اور کسی کے پاؤں کی خاک کی قسم ہے کہ میرے دل میں یہ تمنا ہے کہ وہ کسی ( یعنی خدا تعالیٰ کی محبت میں خون آلود ہو جائے۔