حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 410
حیات احمد ۴۱۰ جلد اول حصہ سوم بٹالہ علی العموم جانے کا اتفاق ہوتا تھا اور وہاں مشن قائم ہو چکا تھا۔اندر ہی اندر بعض مسلمانوں میں ارتداد کا سلسلہ بھی جاری ہو چکا تھا۔حضرت میرزا صاحب کو اس کے معلوم کرنے سے سخت صدمہ ہوا۔منشی نبی بخش پٹواری جو عرصہ دراز تک خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب کے پاس بھی رہے ہیں۔اس فتنہ کے نقصانات اور اثرات کو محسوس کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔آپ کے سامنے وہ اعتراضات جو عیسائی کرتے تھے وہ پیش کرتے۔حضرت ان کے جوابات پورے طور پر آپ کو سمجھا دیتے تھے۔منشی نبی بخش صاحب کہا کرتے تھے کہ حضرت ان کو اجازت دیتے کہ پورے طور پر مباحثہ کر لو تا کہ تم کو گفتگو کرنے میں دقت واقع نہ ہو۔چنانچہ وہ نہایت آزادی اور دلیری کے ساتھ سوالات کرتے۔حضرت جواب دیتے اور وہ پھر اعتراض کرتے اور پھر جواب بقیہ حاشیہ: - قوله نیستی سے ہستی کبھی نہیں ہو سکتی۔اقول۔اے حضرت ! جہاں حکم خدا ہے پھر نیستی کا ذکر کیا ہے۔جب وہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس اپنے امر مقصود کو کہتا ہے کہ ہو جا۔پس وہ اس کی قدرت کاملہ سے نقش وجود پکڑ جاتا ہے۔یہی تو خدائی ہے۔اسی کا نام تو قدرت ہے۔مگر ہم کو معلوم نہیں کہ وہ آپ کا ایشور کیسا ایشور ہے جس کے یہ اوصاف ہیں کہ وہ اپنے کسی امر متخیل کو کہے کہ ہو جا تو کچھ بھی نہ ہو۔اور حکم اُس کا یونہی بڑھتا جائے اور جب تک باہر سے کوئی مادہ نہ آوے اس وقت تک بریکار رہتا رہے۔جس پر میشر کے گزشتہ حالات ایسے ہیں تو پھر اس کی آئندہ قدرتوں کی کیا امید ہوسکتی ہے۔اور ایسے ضعیف پر میشور پر بھروسہ کرنا بہت بڑا معرض خطر ہو گا۔واضح ہو کہ یہ وہم کہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی اُسی وقت تک مجیب صاحبوں کے دل کو پکڑتا ہے کہ جب تک خدا کی قدرت کی عظمت اور بزرگی ان کو معلوم نہیں۔اور اس کی صفات کا ملہ کومحض انسانوں کی صفات پر قیاس کرتے ہیں۔ورنہ ظاہر ہے کہ وہ جو آپ بغیر توسط اسباب وجود کے خود بخود موجود ہے تو وہ اپنے کاموں کے نفاذ میں دوسرے اسبابوں کا کب محتاج ہوسکتا ہے۔اور اگر صرف استعداد عقلی خدا کی قدرتوں کا مانع سمجھا جائے تو سارا کارخانہ قدرت کا بند ہو جائے گا۔