حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 347
حیات احمد ۳۴۷ جلد اول حصہ سوم کلام پر بحث ہوگی۔اس لئے یہاں صرف اس کی طرف اشارہ ہی کر دیتا ہوں۔اسی طرح قرآن مجید کی تعلیم کے عہد حاضرہ میں مکمل ہونے کو جس اسلوب اور نجح پر آپ نے پیش کیا ہے۔وہ بھی آپ ہی کا حصہ ہے۔غرض پنڈت کھڑک سنگھ صاحب سے مباحثہ ہوا۔اور وہ آریوں کی تعلیم سے متزلزل ہو گئے۔اگر ان میں دیانت اور انصاف ہوتا تو وہ اسی جگہ مسلمان ہو جاتے مگر اس وقت نمائشی حجاب نے حق کی طرف آنے نہ دیا لیکن وہ اس تعلیم سے بیزار ضرور ہو گئے اور اپنی شکست کا عملی اعتراف انہوں نے عیسائی ہوکر کر دیا۔جب وہ یہاں سے جانے لگے۔تو بعض لوگوں نے ان سے ویدوں سے گائے کی عظمت وغیرہ کے متعلق بھی سوال کیا۔اور انہوں نے جو جواب دیا وہ ان کے لئے دل شکن تھا گو دید کی صحیح تعلیم کے موافق تھا۔غرض وہ یہاں سے بیدل اور آریہ سماج سے بیزار ہو کر گئے اور عیسائی ہونے کے بعد انہوں نے اپنے دل کے غبار کو آریہ سماج کے خلاف چھ لیکچر لکھ کر نکالا یہ لیکچر آریہ سماج کے اصول و تعلیم و ابطال میں لکھے گئے تھے۔اور پادریوں نے کثرت سے ان کو شائع کیا۔اگر چہ افسوس ہے کہ پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کو ہدایت نصیب نہ ہوئی۔اور وہ دولتِ اسلام سے محروم رہ گیا۔مگر اس کا قادیان سے جانے کے بعد عیسائی ہونا اس امر کی کھلی کھلی دلیل تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان دلائل و براہین کے سامنے بہ حیثیت ایک آریہ سماجی کے نہ ٹھہر سکا جو آرین ازم کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش کئے۔اور یہ ایک ایسا کاری حربہ تھا اور ہے اور رہے گا کہ ہر مذہب کے ماننے والا اپنی الہامی کتاب سے دعوئی اور دلائل پیش کرے پنڈت کھڑک سنگھ کی شکست و ہزیمت کا ثبوت اس کے عیسائی ہونے نے دے دیا۔اور اس طرح پر یہ مباحثہ ختم ہو گیا۔اب میں ذیل میں وہ تحریر درج کرتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے