حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 346
حیات احمد ۳۴۶ جلد اول حصہ سوم برداشت ہی نہ کر سکتے تھے کہ کوئی شخص آپ کی بے ادبی کرے۔کوئی چیز آپ کو غصہ نہیں دلا سکتی تھی۔اور سچ تو یہ ہے کہ آپ کو غصہ آتا ہی نہ تھا۔بغیر اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم یا شعائر اللہ کی کوئی بے ادبی کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس حالت کو جانتے ہوئے اور واقعات کو اس کا موید و شاہد پاتے ہوئے اس پر یقین لانے میں ذرا بھی تامل نہیں ہوسکتا کہ صحیح واقعہ وہی ہے جو بھائی کشن سنگھ صاحب نے بیان کیا۔لالہ ملا وامل صاحب نے باوجود میرے استفسار کے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس بات پر ناراض ہوئے۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ یاد نہیں بہت ممکن ہے انہیں یاد نہ رہا ہو۔لیکن جب حضرت کی طبیعت اور عادت اور دوسرے واقعات کے ساتھ ملاتے ہیں تو معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔اگر کوئی اور شاہد اس کے ساتھ نہ بھی ہوتا تو بھی ہمیں باور کرنے کے لئے کافی وجوہ موجود تھے۔مگر سب سے بڑی شہادت ہمارے پاس وہ تحریر ہے۔جو پنڈت کھڑک سنگھ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھ کر بھیجی۔اور اس میں صاف طور پر آپ نے لکھا ہے کہ تم بارا دہ تو ہین حضرت خاتم الانبیاء کی نسبت بد زبانی کرتے ہو۔اور دوسرے موقع پر قرآن مجید کی ہتک کا بھی اسے ملزم قرار دیتے ہیں۔اس تحریر کے بعد ہمیں کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا کہ اس مباحثہ میں اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں کسی قدر سخت پیدا ہوگئی تھی تو وہ بہ اقتضائے غیرت اسلامی اور محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نتیجہ میں تھی۔میں ذیل میں اس تحریر کو تمام و کمال درج کر دیتا ہوں۔اور قارئین خود فیصلہ کریں گے۔اس تحریر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیرت دین کے پہلو ہی پر روشنی نہیں پڑتی بلکہ اس کے ساتھ ہی علم کلام کی تجدید کا پہلو بھی نمایاں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے کسی شخص نے یہ دعوی نہیں کیا کہ الہامی کتاب خود ہی دعوئی اور خود ہی اپنے دعوی کے دلائل پیش کرے۔چونکہ تفصیلی بحث اس اصول پر میں اس مقام پر کرنا چاہتا ہوں۔جہاں آپ کے علم