حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 336
حیات احمد ۳۳۶ جلد اول حصہ سوم قدم نہ تقلید اہل کمال که خود اوفتد ناگهان در ضلال اہل کمال کی تقلید کی راہ پر چل کہ آدمی خود رائی سے ناگہاں گمراہی میں جا پڑتا ہے میانه گزیں باش و با اعتدال کہ یکسو روی باشد از اختلال میانہ روی اور اعتدال کے طریقہ کو اختیار کر کہ یک طرفہ چلنا فساد کا موجب ہوتا ہے دو چشم کسے چوں سلامت بود بیک چشم دیدن ندامت بود جس کی دونوں آنکھیں سلامت ہوں تو صرف ایک آنکھ سے دیکھنا اس کے لیے باعث ندامت ہوتا ہے به تحقیق باید نظر پست داشت دو دیده گذاشت معطل نباید ہمیشہ تحقیق کی نظر چست رکھنی چاہیے اور آنکھوں کو بے کار نہیں چھوڑنا چاہیے چوصوف صفا در دل آمیختند مداد از سواد عیون ریختند جب صفائی کا صوف دل میں ملاتے ہیں تو آنکھوں کی سیاہی سے روشنی ڈالتے ہیں دو چیز است چوپان دنیا و دیں دل روشن و دیدہ دور میں دو چیزیں دین و دنیا کی محافظ ہیں۔ایک تو روشن دل دوسرے دور اندیش نظر خدا راست آن بندگانِ کرام که از بهر شاں میکند صبح و شام ہے خدا کے نیک بندے ایسے بھی ہیں جن کے لیے خدا صبح و شام کو پیدا کرتا بدنبال چشم چو مے بنگرند جہانے بدنبال خود می کشند جب وہ کن انکھیوں سے دیکھتے ہیں تو ایک جہان کو اپنے پیچھے کھینچ لیتے ہیں اثر هاست در گفتگو ہائے شان چکد نور وحدت نے روہائے شاں ان کے کلام میں اثر ہوتا ہے اور اُن کے چہروں سے توحید کا نور ٹپکتا ہے در او شان به اظہار ہر خیر و شر نها دست حق خاصیت مستتر ان میں نیکی اور بدی کے اظہار کے لیے خدا تعالیٰ نے مخفی خاصیت رکھ دی ہے