حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 332 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 332

حیات احمد ۳۳۲ جلد اول حصہ سوم کجا شد دریغ آن زمان وصال کجا شد چنان خرم آن ماه و سال افسوس! وہ ملاقات کا زمانہ کہاں گیا اور وہ مبارک مہینہ اور سال کدھر چلا گیا بدستم از آن جز خیالے نماند از آن جام کے ، یک سفالے نماند میرے ہاتھ میں سوائے اس خیال کے کچھ بھی نہ رہا اور اس جام شراب کی ایک ٹھیکری بھی باقی نہ رہی۔دریں گوشہ چوں یادِ یاراں کنیم دو دیده چو ابر بہاراں کنیم اس کنج تنہائی میں جب ہم دوستوں کو یاد کرتے ہیں تو دونوں آنکھوں کو ابر بہار کی طرح بنا دیتے ہیں دل خود بدنیا چه بندد کسے که ایام الفت ندارد بسے کوئی اس دنیا سے اپنا دل کیا لگائے کہ محبت کے دن زیادہ باقی نہیں رہا کرتے چه فرق است در روز و شب جز که یار فتد خاک بر فرق این روزگار یار کے بغیر دن اور رات میں فرق ہی کیا ہے؟ اس زمانہ کے سر پر خاک پڑے دو دست دعا پیش حق گسترم کہ چہرت نماید بفضل و کرم میں اپنے دونوں ہاتھ خدا کے حضور میں پھیلاتا ہوں کہ وہ اپنے فضل وکرم سے تیرا چہرہ دکھائے بمكتوب که که بکن شاد کام خط و نامه با ما چرا شد حرام کبھی کبھی خط لکھ کر ہمیں خوش وقت کر دیا کر۔تو نے ہمیں خط بھیجنا کیوں ترک کر دیا دگر آنچہ تحریر کرد آن رفیق کرم گسترد نیز آں مکرم کرم فرما۔مہربان اور شفیق نے جو که از بحث دیں زاں نکردیم یاد که خوف ملال تو در دل فتاد کہ ہم نے اس لئے اس خط میں دین کی بحث کا ذکر نہیں کیا کہ ہمارے دل میں ناراضگی پیدا نہ ہو ( تو واضح ہو ) من آن هیستم کز رو بغض و کیس برنجم ز تحریک در بحث دیں کہ میں ایسا انسان نہیں ہوں کہ دشمنی اور کینہ وری کی وجہ سے دینی مباحث کی تحریک سے ناراض ہو جاؤں و مهربان و شفیق لکھا ہے