حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 24 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 24

حیات احمد ۲۴ جلد اوّل حصہ اول گالیاں سنتے تھے۔جان کی دھمکیاں دے کر ڈرائے جاتے تھے۔اور سب طرح کی ذلتیں دیکھتے تھے۔پر کچھ ایسے نشہ عشق میں مدہوش تھے کہ کسی خرابی کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔اور کسی بلا سے ہراساں نہیں ہوتے تھے۔دنیوی زندگی کے رُو سے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا رکھا تھا جس کی توقع سے وہ اپنی جانوں اور عتوں کو معرض خطر میں ڈالتے اور اپنی قوم سے پرانے اور پر نفع تعلقات کو توڑ لیتے۔اُس وقت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تنگی اور عسر اور کس نہ پُرسد اور کس نشناسد کا زمانہ تھا اور آئندہ کی امیدیں باندھنے کے لئے کسی قسم کے قرائن اور علامات موجود نہ تھے۔سو انہوں نے اس غریب درویش کا ( جو دراصل ایک عظیم الشان بادشاہ تھا) ایسے نازک زمانہ میں وفاداری کے ساتھ محبت اور عشق سے بھرے ہوئے دل سے جو دامن پکڑا۔جس زمانہ میں آئندہ کے اقبال کی تو کیا امید خود اُس مرد مصلح کی چند روز میں جان جاتی نظر آتی تھی یہ وفاداری کا تعلق محض قوت ایمانی کے جوش سے تھا۔جس کی مستی سے وہ اپنی جانیں دینے کے لئے ایسے کھڑے ہو گئے جیسے سخت درجہ کا پیاسا چشمہ شیریں پر بے اختیار کھڑا ہو جاتا ہے۔سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اسی طرح وہ جو حارث آئے گا تو وہ مومنین کو تیر و تبر سے مدد نہیں دے گا۔بلکہ مومنین قریش کی اس مخصوص حالت اور اس مخصوص ماجرا کی طرح جو مکہ میں ان پر گزرا تھا جبکہ اُن کے ساتھ دوسری قوموں میں سے کوئی نہ تھا اور نہ ہتھیار استعمال کئے جاتے تھے بلکہ صرف قوت ایمانی اور نور عرفانی کی چپکاریں گفتار اور کردار سے دکھلا رہے تھے۔اور انہیں کے ذریعہ سے مخالفوں پر اثر ڈال رہے تھے۔یہی طریق اس حارث کا بھی مومنوں کو اپنی پناہ میں لانے کے بارہ میں ہو گا کہ وہ اپنی قوت ایمانی اور نور عرفانی کے آثار وانوار دکھلا کر مخالفین کے منہ بند کرے گا اور مستعد دلوں پر اس کا اثر ڈالے گا اور اس کی قوت ایمانی اور نور عرفانی کا چشمہ جیسا شجاعت و استقامت وصدق و صفا و محبت ووفا کی رو سے بہتا ہوگا۔ایسا ہی روحانی امور کے بیان کرنے اور روحانی اور عقلی حجتوں کو مخالفوں پر پورا کرنے کے لئے بڑے زور سے رواں ہوگا اور وہ چشمہ اُسی چشمہ کا ہم