حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 327
حیات احمد ۳۲۷ جلد اول حصہ سوم ذرا بھی مشکل نہ ہو کہ کوئی الزام قائم کر دے۔وہ اس کے سلسلہ کو دوکانداری کہہ دیتا ہے۔مخالفت کے لئے اور قسم کی تجاویز اختیار کرتا ہے جس سے مقصد محض دکھ دینا ہو۔مگر نہیں کر سکتا تو یہ کہ اس کی زندگی پر کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض کر سکے۔اس کی دیانت، امانت، راست بازی، عفت اور صداقت پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔بلکہ یہ کہتا ہے کہ اس میں اس قسم کے عیوب اس لئے نہیں تھے کہ اس میں وہ جرات اور دلیری نہ تھی جو اس کے خیال میں ڈاکوؤں اور بدمعاشوں میں ہوتی ہے۔اس جرات اور بہادری سے وہ بزدلی اور کمزوری لا انتہا درجہ بہتر ہے جو انسان کو امین اور راست باز بنا دے۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جرات اور شجاعت پر بحث نہیں کرنا اس کے لئے الگ مقام ہے۔حقیقی جرات اور شجاعت کے وقت وہ سب سے زیادہ دلیر اور شجاع تھے۔اس مقام پر مجھے آپ کے ایک سخت ترین دشمن کی شہادت آپ کی اعلیٰ درجہ کی پاکیزہ زندگی پر پیش کرنی تھی جو اس زمانہ کے متعلق ہے جبکہ آپ خدا کی مخلوق کی طرف مبعوث نہ ہوئے تھے بلکہ ایک عام انسان کی سی زندگی بسر کر رہے تھے اور دنیا کے کاروبار میں بھی جہاں مختلف قسم کی لغزشوں کے مواقع آ سکتے ہیں خواہ گڑھا ہی سہی مشغول کر دیئے گئے تھے۔مگر کسی بھی ترغیب یا ترہیب نے آپ کو اپنے مقام سے جنبش نہ دی۔مقدمات میں جھوٹی شہادت دینا یا دلانا بہت ممکن ہوتا ہے مگر آپ کو مقدمات کے ہار جانے کا غم نہیں ہوتا تھا۔اگر وہ کسی صبیح واقعہ کے بیان پر ہارے جاتے ہوں۔آپ کو اپنے یا خاندان کے کسی نقصان کی ذرا بھی پروا نہ ہوتی اگر آپ کی شہادت پر کوئی جائیداد آپ کے ہاتھ سے نکل جاتی۔چنانچہ میں اس کا ذکر دوسری جلد میں کر آیا ہوں کہ کس طرح پر ڈپٹی شنکر داس صاحب کے مکان والی زمین خاندان کے ہاتھ سے نکل گئی۔مولوی اللہ دتا صاحب اودھی منگل سے مباحثہ حضرت اقدس نے انہی ایام میں مولوی اللہ دتا صاحب ساکن لودھی منگل کو اپنے صاحبزادگان کی تعلیم کے لئے بلوایا تھا مگر وہ زیادہ دیر تک یہاں نہ رہ سکے۔اور واپس لودھی منگل چلے گئے۔ایام اقامت قادیان