حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 316 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 316

حیات احمد جلد اول حصہ سوم تک زندہ ہیں اور ان کا خاندان احمدی ہے ) بیان کرتے ہیں کہ میں اولاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے واقف نہ تھا یعنی ان کی خدمت میں مجھے جانے کی عادت نہ تھی۔خود حضرت صاحب گوشہ گزینی اور گمنامی کی زندگی بسر کرتے تھے لیکن چونکہ وہ صوم وصلوٰۃ کے پابند اور شریعت کے دلدادہ تھے یہی شوق مجھے بھی ان کی طرف لے گیا اور میں ان کی خدمت میں رہنے لگا۔جب آپ مقدمات کی پیروی کے لئے جاتے تو مجھے گھوڑے پر اپنے ساتھ اپنے پیچھے سوار کر لیتے تھے اور بٹالہ جا کر اپنی حویلی میں گھوڑا باندھ دیتے۔بٹالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی غیر منقولہ جائیداد کچھ دو کا نہیں اور ایک بہت بڑی حویلی تھی۔جو آخر ان مقدمات کے نتیجہ میں فروخت ہوگئی جو شر کاء کی وجہ سے ہوئے۔یہ بہت بڑی قیمتی جائیداد تھی۔میں نے اس حویلی کو دیکھا ہے۔عرفانی ) اس حویلی میں ایک بالا خانہ تھا۔آپ اُس میں قیام فرماتے۔اس مکان کی دیکھ بھال کا کام ایک جولا ہے کے سپرد تھا جو ایک غریب آدمی تھا آپ وہاں پہنچ کر دو پیسہ کی روٹی منگواتے۔یہ اپنے لئے ہوتی تھی اور اس میں سے ایک روٹی کی چوتھائی کے ریزے پانی کے ساتھ کھا لیتے۔باقی روٹی اور دال وغیرہ جو ساتھ ہوتی وہ اس جولا ہے کو دے دیتے اور مجھے کھانا کھانے کے لئے چار آنہ دیتے تھے۔آپ بہت ہی کم کھایا کرتے تھے اور کسی قسم کے جسکے کی عادت نہ تھی۔قادیان میں کھانے کا انتظام اس طرح پر تھا کہ آپ نے ایک چھگار رکھا ہوا تھا۔وہ لڑکا دیتے۔گھر والے اس میں روٹی وغیرہ رکھ دیتے۔اور بہت ہی کم آپ کھاتے باقی تقسیم کر دیتے۔اور شام کے وقت عصر کے قریب بھنے ہوئے کابلی چنے منگوا کر چبایا کرتے تھے۔غرض ان مقدمات کی پیروی میں آپ خدام کے ساتھ بہترین سلوک فرماتے اور ان کو آرام پہنچانے کی پوری سعی فرماتے تھے۔میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مرزا دین محمد صاحب آپ کے چچا جناب مرزا غلام محی الدین صاحب مرحوم کے سسرال میں سے ہیں۔اور اس طرح پر گویا ایک رشتہ داری کے تعلقات بھی تھے اور ہیں۔