حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 315
حیات احمد ۳۱۵ جلد اول حصہ سوم پاتے کہ وہ سمجھ سکتے ہیں ان کو طریق استخارہ بھی سمجھاتے تھے۔اور ان کو ہدایت فرماتے کہ اگر وہ کوئی خواب دیکھیں تو صبح کو بیان کریں۔آپ ان کے خواب سنتے اور تعبیریں بتاتے تھے۔یہ سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رہا بلکہ کہنا چاہیئے کہ عمر بھر جاری رہا۔گو اس کی صورت تبدیل ہوگئی۔مقدمات کی پیروی اسی اثناء میں جناب مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم آپ کے والد ماجد نے آپ کو مقدمات کی پیروی میں لگا دیا۔میں پہلے اس کے متعلق لکھ آیا ہوں۔یہاں سلسلہ بیان کے لئے مختصر ذکر کرتا ہوں۔یہ مقدمات زیادہ تر قادیان کی جائیداد اور قادیان کی رعایا یعنی زمینداروں کے متعلق اضافہ لگان۔درخت کاٹنے وغیرہ کے ہوا کرتے تھے۔ان مقدمات کی پیروی میں آپ کا طریق عمل یہ تھا کہ کبھی کسی مقدمہ میں کسی بناوٹ یا جھوٹ سے کام نہیں لیا۔خواہ مقدمہ ہارنا ہی پڑے۔مقدمات کے باعث وقت پر ادائے نماز میں کبھی سستی نہ کی۔ایسا اتفاق اکثر ہوا کہ عدالت کی طرف سے پکار ہو رہی ہے اور آپ نماز میں مصروف ہیں اور پورے خشوع خضوع کے ساتھ آپ نے نماز کو پورا کیا۔اور عجیب کرشمہ قدرت یہ ظاہر ہوا کہ گو مقدمہ آپ کی غیر حاضری میں پیش ہوا مگر آپ اس میں کامیاب ہو گئے۔مقدمات کے لئے جب آپ قادیان سے جایا کرتے تھے تو مختلف اوقات میں آپ کے ساتھ مختلف آدمی ہوتے تھے۔کبھی مرزا اسماعیل بیگ صاحب ساکن قادیان۔کبھی مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگر وال اور کبھی میاں غفار (عبدالغفار ) یکہ بان قادیان۔آپ کا طریق عمل یہ ہوتا تھا کہ آپ سواری کے لئے گھوڑا لے لیا کرتے تھے۔( جو آپ کے اصطبل میں اس وقت بہت ہوتے تھے ) مرزا اسماعیل بیگ صاحب کا بیان ہے کہ گاؤں سے باہر نکل کر وہ ان کو سوار کر لیا کرتے تھے۔اور نصف راستہ تک مرزا اسماعیل بیگ سوار رہتے اور نصف راستہ خود۔اسی طرح پر واپسی کے وقت آپ کا طریق تھا۔مرزا اسماعیل بیگ صاحب عذر کرتے اور شرم کرتے تو آپ فرماتے کہ ہم کو پیدل چلتے شرم نہیں آتی تم کو سوار ہوتے کیوں شرم آتی ہے۔مرزا دین محمد صاحب ( جوانگر وال کے رہنے والے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت