حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 298
حیات احمد ۲۹۸ جلد اول حصہ دوم حضرت مرزا صاحب کے پاس محض مذہبی دلچسپی اور نیکی اور تقویٰ کے لحاظ سے ان کی آمد ورفت تھی۔پھر رفتہ رفتہ انہوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر عملی رنگ میں قادیان ہی کو بنالیا۔اپنے اہل وعیال کو لے کر قادیان میں آگئے۔دورہ کر کے اپنے فرض منصبی کو ادا کر کے واپس قادیان آ جاتے۔اور حضرت مسیح موعود کی صحبت سے فیض پاتے۔مذہبی اور دینی اذکار ہوتے رہتے۔میر صاحب قبلہ اپنی جگہ متبع سنت تھے اور حضرت مسیح موعود تو اس رنگ میں پورے رنگین اور گداز تھے اس لئے دن بدن میر صاحب کے دل میں حضرت مسیح موعود کی عظمت اور عزت بہ حیثیت ایک متقی اور باخدا انسان کے بڑھتی جاتی تھی۔حضرت اُم المؤمنین ان دنوں میں قادیان کے ایک محلے میں ایک چھوٹے بچہ کی حیثیت سے کھیلتی تھیں۔اور اس بات سے ان کے معزز اور واجب الاحترام والدین اور خود ان کا پاک اور معصوم دل بالکل ناواقف تھے کہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ وہ معصوم لڑکی اُم المؤمنین کے خطاب سے مخاطب ہوگی۔اور یہی قادیان اس کی تمام عزتوں اور عظمتوں کا مرکز ہوگا۔اور جس مرد خدا کے ساتھ اس کے باپ کو اس وقت ایک معمولی محبت کا تعلق ہے۔وقت آتا ہے کہ صہری تعلقات کی زنجیر میں تبدیل ہو جائے گا۔غرض حضرت میر صاحب کو بڑی محبت تھی۔اور وہ اکثر حضرت مسیح موعود کے لئے مختلف قسم کے نفیس اور لذیذ کھانے جن میں دہلوی مذاق کی شان نمودار ہوتی تھی لیجایا کرتے۔اور حضرت مسیح موعود اپنے معمول کے موافق انہیں اپنے متعلقین ( متعلقین سے مراد وہ بچے اور خادم لوگ تھے جو آپ کے آئے ہوئے کھانے میں حصہ دار ہوا کرتے تھے۔گھر والے مراد نہیں ) میں تقسیم کر کے کھاتے اور حمد الہی کرتے۔حضرت مسیح موعود کے پاس جو طالب علم یا خادم رہتے۔ان میں سے بعض کی آپ نے میر صاحب کے پاس سفارش بھی کی۔چنانچہ میاں علی محمد صاحب ( جو آج کل خان بہادر مرزا سلطان احمد کے پاس ہیں ) اور میاں غفارا یکہ والا کو میر صاحب نے نوکر بھی کرا دیا۔مگر پھر ان لوگوں کو کچھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہ میر صاحب کے ساتھ نہ رہ سکے۔