حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 297
حیات احمد ۲۹۷ جلد اول حصہ دوم کسی مرحلہ پر اسے معلوم بھی ہو جائے تو چونکہ وہ معاوضہ لے چکا ہوتا ہے اس لئے پیروی کرتا ہے۔اور چھوڑ نہیں سکتا۔اس لئے تقویٰ کی باریک در بار یک رعایت نے اس خیال کو ہمیشہ کے لئے آپ کے دل سے نکال دیا۔ایک وقت اس پیشہ کے مختلف پہلوؤں پر آپ نے خوب غور کیا ہے۔اس کے تمام نشیب و فراز پر متقیانہ نظر ڈالی ہے۔لیکن آخر یہ پہلو غالب آیا کہ چونکہ امکان ہے کہ محض غلط اور فرضی مقدمات کی پیروی ہو یا ایک ظالم مجرم کی حمایت اور تطہیر ہو۔اس لئے کلیۂ اس سے الگ رہنے میں امن سمجھا اور دوسری مرتبہ امتحان دینے کا خیال جو آیا تھا وہ ترک کر دیا۔اور اس کے ساتھ ہی دنیا میں ہر قسم کی جدو جہد معاش کے لئے ترک کر کے اس قدر پر اکتفا کیا جو خداداد ذریعہ آمدنی بسلسلہ حرث تھا۔اور آپ کی مختصر ضروریات کے لئے وہ اچھی طرح ممد تھا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی تشریف آوری حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت صہری کے لئے منتخب فرمایا تھا۔اُس نسبت صہبری کے لئے جس کے واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے متعلق پیشگوئی کی تھی کہ يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُ لَهُ یعنی مسیح موعود شادی کرے گا اور اس شادی سے اس کے ہاں اولا د ہو گی۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کا تفصیلی تذکرہ میں اُس حصہ سیرت میں کروں گا ( انشاء اللہ ) جہاں حضرت مسیح موعود کی شادی کا تذکرہ ہوگا۔یہاں مجھ کو صرف اس وجہ سے آپ کا ذکر کرنا پڑا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود کے ان ایام کے واقعات اور حالات لکھ رہا ہوں۔جب آپ سیالکوٹ سے واپس آچکے تھے۔حضرت میر صاحب جیسا کہ سب کو معلوم ہے شروع شروع میں بڑے پکے وہابی (اہلحدیث ) تھے۔اس وقت اہلحدیث اسی نام سے پکارے جاتے تھے۔اپنی صاف گوطبیعت اور جلد جوش میں آ جانے والی عادت میں مشہور تھے۔محکمہ نہر میں وہ ملازم تھے اور اپنے پورے شباب اور زور میں تھے۔دینداری کا جذبہ اور اتباع سنت کا جوش بہت تھا۔