حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 276
حیات احمد جلد اول حصہ دوم اسی لئے آپ نے اس زبان کو کبھی سیکھا نہیں۔اپنے دعوئی مسیح موعود کے بعد بھی ایک مرتبہ آپ کو سرسری خیال آیا کہ میں انگریزی پڑھ لوں۔چنانچہ میرے مکرم بھائی مفتی محمد صادق صاحب نے ایک انگریزی کی کتاب خود ترتیب دی اور وہ اس وقت تک میرے پاس موجود ہے۔اور کوشش کی کہ حضرت صاحب اس کو پڑھ لیں مگر آپ کو دلچسپی پیدا نہیں ہوئی۔انہی ایام میں یہ بھی فرمایا کہ انگریزی چالیس تہجد کی دعاؤں میں آجاتی ہے لیکن آپ فرمایا کرتے کہ اگر اس زبان میں تبلیغ کا کام بھی میں آپ کروں تو پھر میرے دوستوں کے لئے کیا ر ہے اس لئے ثواب کے لئے میں ان کے لئے ہی چھوڑتا ہوں۔انگریزی الهامات حضرت مسیح موعود کو انگریزی زبان میں الہامات بھی ہوئے ہیں مگر ان کی تعداد بہت ہی کم ہے حضرت مسیح موعود نے خود اعتراف کیا ہے کہ یہ خاکسار انگریزی زبان سے کچھ واقفیت نہیں رکھتا بعض نا اہلوں نے انگریزی الہامات کی زبان کی خوبی اور فصاحت پر بھی بحث کی ہے مگر یہ بحث اس قسم کی ہے جیسے حضرت مسیح موعود کے بعض عربی الہامات پر کی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود انگریزی نہیں جانتے تھے غرض یہ امر واقعہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگریزی زبان سے بکلی نا آشنا اور ناواقف تھے۔مجھ کو اس موضوع پر خاص بحث کی اس لئے ضرورت نہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنی زندگی کے ان ایام میں جبکہ آپ ملازمت کے مکتب سے گزر رہے تھے انگریزی کی طرف توجہ کرنا یا اس کی ایک آدھ کتاب کا جو حروف تہجی پر ہی مشتمل ہوتی ہے پڑھنا شرعاً، عرفا کوئی گناہ ہے بلکہ ایسے زمانہ میں جبکہ مسلمان لوگ انگریزی تعلیم سے بیزاری کا اظہار کر رہے تھے اور انگریزی خوانی اور ایسے مدارس کی ترویج و تائید کو کفر قرار دیتے تھے اگر حضرت مسیح موعود نے توجہ کی ہوتی تو یہ آپ کی زندگی کا ایک کارنامہ اور آپ کی اولوالعزمانہ طبیعت کا ایک جوہر ہوتا۔اس زبان سے آپ کو کبھی نفرت نہ تھی اگر نفرت ہوتی تو