حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 275
حیات احمد ۲۷۵ جلد اول حصہ دوم جائے تو وہ عہدہ بھی عمدہ ہے ان سب نے میری بات سن کر قہقہہ مار کر ہنسی کی کہ کیا چنگے بھلے کو مارتے ہو۔دوسرے دن یا تیسرے دن خبر آ گئی کہ اُسی گھڑی سمج رام نا گہانی موت سے اس دنیا سے گزر گیا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۹۶۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۰۹) غرض مسیح موعود نے اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے میں تو کبھی کوتاہی نہ کی۔مگر کبھی نہ تو جھوٹی خوشامد کی۔اور نہ اپنے نفع و ضرر کا مالک کسی افسر و انسان کو سمجھا اور نہ افسری ماتحتی کے تعلقات کی بناء پر اسلام کی حقانیت کے اظہار سے رکے۔اگر اسلام سے کسی کو کینہ اور دشمنی تھی تو آپ کو اس کے ساتھ کوئی محبت نہ تھی۔اَلْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ پر آپ کا عمل تھا۔پنڈت سج رام کے ساتھ تعلقات ایک ایسی نظیر ہیں جو غیور اور مومن ملازموں کے لئے ایک نشان میل کا کام دے سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود کی انگریزی دانی سیالکوٹ ہی کے سلسلہ قیام میں بقول مولوی سید میر حسن صاحب یہ ذکر آیا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے انگریزی کی ایک یا دو کتابیں پڑھیں۔ہر چند کوئی شخص جس کے سر میں دماغ اور دماغ میں عقل ہو یہ باور نہیں کر سکتا کہ حضرت مسیح موعود اس سے انگریزی دان ہو گئے کیونکہ اگر اس واقعہ کو اپنی جگہ رکھ کر بھی دیکھا جائے تو انگریزی کی ابتدائی پرائمر جس سے حروف تہجی کی شناخت پیدا ہوتی ہے کوئی شخص پڑھ کر بشر طیکہ اس نے پڑھی ہو انگریزی سے واقف بھی نہیں کہلا سکتا لیکن پھر بھی بعض کوڑ مغز ایسے ہوتے ہیں جن کی نظر واقعات اور حقائق پر نہیں ہوتی۔وہ صرف نکتہ چینی کے لئے کوئی بات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اس لئے اس وہم کے رفع کرنے کے لئے اور اس خصوص میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوزیشن کو صفائی کے ساتھ پیش کرنے کے لئے میں اس پر مزید بحث کرنی پسند کرتا ہوں۔گو بہ حیثیت وقائع نگار اس وقت میرا کام نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو انگریزی زبان کے ساتھ کوئی مناسبت اور دلچسپی کبھی نہ تھی۔