حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 250 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 250

حیات احمد ۲۵۰ جلد اول حصہ دوم کے لئے ایک نافع الناس وجود تھے اس لئے اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ کے ارشاد کے ماتحت بعض اوقات خارق عادت طور پر موت کے منہ سے بچائے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور ایک مرتبہ ایک دوست کا خط پیش ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر جو آگ ٹھنڈی ہوگئی تھی آیا وہ فی الواقعہ آتش هیزم تھی یا کہ فتنہ و فساد کی آگ تھی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے آپ نے اپنی زندگی کے بعض واقعات بیان فرمائے جو قیام سیالکوٹ کے زمانے کے تھے اور ان واقعات کو پیش کر کے یہ بتایا کہ فی الواقعہ آتش ہیزم بھی ٹھنڈی ہو سکتی ہے۔چنانچہ فرمایا کہ فتنہ و فساد کی آگ تو ہر نبی کے مقابل میں ہوتی ہے اور وہی ہمیشہ ایسا رنگ پیدا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک معجز نما طاقت اپنے نبی کی تائید میں اس کے بالمقابل دکھاتا ہے ظاہری آتش کا حضرت ابراہیم پر بر دکر دینا اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی مشکل امر نہیں اور ایسے واقعات ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ان واقعات کی اب بہت تحقیقات کی ضرورت نہیں کیونکہ ہزاروں سال کی بات ہے، ہم خود ایسے زمانہ میں ایسے واقعات دیکھ رہے ہیں اور اپنے اوپر تجربہ کر رہے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے جب کہ میں سیالکوٹ میں تھا تو ایک دن بارش ہو رہی تھی جس کمرہ کے اندر میں بیٹھا ہوا تھا اس میں بجلی آئی سارا کمرہ دھوئیں کی طرح ہو گیا اور گندھک کی سی بو آتی تھی لیکن ہمیں کچھ ضرر نہ پہنچا اُسی وقت وہ بجلی ایک مندر میں گری جو کہ تیجا سنگھ کا مندر تھا اور اُس میں ہندوؤں کی رسم کے موافق طواف کے واسطے پیچ در پیچ اردگرد دیوار بنی ہوئی تھی اور اندر ایک شخص بیٹھا تھا۔بجلی تمام چکروں میں سے ہو کر اندر جا کر اس پر گری اور وہ جل کر کوئلہ کی طرح سیاہ ہو گیا۔دیکھو وہی بجلی آگ تھی جس نے اس کو جلا دیا مگر ہم کو کچھ ضرر نہ دے سکی کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی۔ایسا ہی سیالکوٹ کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ رات میں ایک مکان کی دوسری منزل میں سویا ہوا تھا۔اور اسی کمرہ میں میرے ساتھ پندرہ یا سولہ آدمی اور بھی تھے رات کے وقت شہتیر میں تک تک کی آواز آئی۔میں نے آدمیوں کو جگایا کہ شہتیر خوفناک معلوم ہوتا ہے یہاں سے نکل جانا الرعد : ۱۸