حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 243
حیات احمد ۲۴۳ جلد اول حصہ دوم ایک بزرگ کہیں سفر پر جارہے تھے اور ایک جنگل میں ان کا گزر ہوا جہاں ایک چور رہتا تھا اور جو ہر آنے جانے والے مسافر کو لوٹ لیا کرتا تھا۔اپنی عادت کے موافق اس بزرگ کو بھی لوٹنے لگا۔بزرگ موصوف نے فرمایا۔وَ فِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ (الذاريت :۲۳) تمہارا رزق آسمان پر موجود ہے تم خدا پر بھروسہ کرو۔اور تقویٰ اختیار کرو اور چوری چھوڑ دو۔خدا تعالیٰ خود تمہاری ضرورتوں کو پورا کر دے گا۔چور کے دل پر اثر ہوا۔اس نے بزرگ موصوف کو چھوڑ دیا اور ان کی بات پر عمل کیا یہاں تک کہ اسے سونے چاندی کے برتنوں میں عمدہ عمدہ کھانے ملنے لگے۔وہ کھانے کھا کر برتنوں کو جھونپڑی کے باہر پھینک دیتا۔اتفاقاً وہی بزرگ کبھی ادھر سے گزرے تو اس چور نے جواب بڑا نیک بخت اور متقی ہو گیا تھا۔اس بزرگ سے ساری کیفیت بیان کی۔اور کہا کہ مجھے اور آیت بتلاؤ۔تو بزرگ موصوف نے فرمایا کہ فِی السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ الْحَقُّ یہ پاک الفاظ سن کر اس پر ایسا اثر ہوا کہ خدا تعالیٰ کی عظمت اس کے دل پر بیٹھ گئی پھر تڑپ اٹھا اور اسی میں جان دے دی۔“ پس اے عزیز جو تم نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنے سے کیا کیا نعمتیں ملتی ہیں اور تقویٰ اختیار کرنے سے کیسی دولت ملتی ہے۔غور کر کے دیکھو وہ خدا تعالیٰ جو زمین و آسمان کے رہنے والوں کی پرورش کرتا ہے۔کیا اس کے ہونے میں کوئی شک وشبہ ہوسکتا ہے؟ وہ پاک اور سچا خدا ہی ہے جو ہم تم سب کو پالتا پوستا ہے پس خدا ہی سے ڈرو۔اسی پر بھروسہ کرو اور نیکی اختیار کرو۔یہاں پر کہانیوں کے سلسلے میں مجھے یہ بھی بیان کر دینا چاہیئے کہ بعض اوقات بچے بھی آپ کو کہانیاں سنانی شروع کر دیتے آپ بیٹھے سنتے۔نہ اس لئے کہ آپ کو کوئی شوق تھا۔بلکہ محض اس لئے کہ ان کی دل شکنی نہ ہو۔اور بچوں کی تربیت کے متعلق جو اصول آپ کے ہیں ان کے خلاف نہ ہو۔حضرت مخدوم الملۃ مولانا مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :- ’بار ہا میں نے دیکھا ہے کہ اپنے اور دوسرے بچے آپ کی چار پائی پر بیٹھے ہیں اور آپ کو مضطر کر کے پائنتی پر بٹھا دیا ہے۔اور اپنے بچپنے کی بولی میں مینڈک اور کوے چڑیا کی کہانی سنار ہے