حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 242 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 242

حیات احمد ۲۴۲ جلد اول حصہ دوم فرشتہ نے گنجے کے سر پر ہاتھ پھیرا تو خدا کی قدرت سے اس کے سر پر بال بھی نکل آئے اور مال و دولت اور نوکر چاکر بھی مل گئے۔پھر اندھے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے۔اندھے نے کہا کہ میری آنکھیں روشن ہو جاویں تو میں ٹکریں کھاتا نہ پھروں اور روپیہ پیسہ بھی مل جاوے تو کسی کا محتاج نہ رہوں۔فرشتہ نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ روشن ہوگئیں اور مال و دولت بھی مل گیا۔پھر وہی فرشتہ گنجے اور اندھے کی آزمائش کے لئے خدا تعالیٰ کے حکم سے ایک فقیر کے بھیس میں آیا اور گنجے کے پاس جا کر سوال کیا۔گنجے نے ترش روئی سے جواب دیا اور جھڑک دیا اور کہا چل تیرے جیسے بہت فقیر پھرتے ہیں۔فرشتہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیا اور پھر وہ گنجے کا گنجا ہو گیا۔اور سب مال و دولت جاتا رہا اور پھر ویسا ہی تنگ حال ہو گیا۔پھر وہی فرشتہ فقیر کی شکل میں اندھے کے پاس آیا جواب بڑا دولت مند اور بینا ہو گیا تھا اور سوال کیا۔اس نے کہا سب کچھ اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے اور اس کا مال ہے۔تم لے لو۔اس پر پھر اللہ تعالیٰ نے اندھے کو اور بھی مال و دولت دیا۔نتیجہ :۔پس اے عزیز بچو تم بھی یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر کرو اور اس کی قدر کرو۔اور سوالی کو جھڑ کی نہ دو۔خیرات کرنا اچھی بات ہے اور سوالی کو دینا چاہیئے۔اس سے خدا خوش ہوتا ہے اور نعمت زیادہ کرتا ہے۔ایک بزرگ اور چور کی کہانی اللہ پر بھروسہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد سلمہ اللہ الاحد نے فرمایا کہ جناب امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام نے ۵ ستمبر ۱۸۹۸ء کو بعد نماز عصر میری درخواست پر مجھے مندرجہ ذیل کہانی سنائی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرنا اور سچا تقویٰ انسان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ خود اس کا کفیل ہو جاتا ہے۔اور ایسے طور پر اس کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔چنانچہ حضرت نے (یعنی حضرت قبلہ ام) نے فرمایا کہ:-