حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 207 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 207

حیات احمد ۲۰۷ جلد اول حصہ دوم ہماری طرف سے یہ جواب ہے کہ یہ استدلال صاحب معارض کا ہرگز درست نہیں اور نہ ان کو کچھ فائدہ بخشتا ہے۔بلکہ الٹا ان کے دعوی کو بجائے صحیح ثابت کرنے کے غلط ثابت کرتا ہے۔کیونکہ ظاہر ہے کہ خداوند کریم کی ذات پاک لا محدود ولا انتہا ہے اور ارواح کے پیدائش کی علت تامہ وہی غیر متناہی ہستی ہے۔اب اگر بقول مدرس صاحب کے یہ فرض کیا جائے کہ تخلف معلول کا اپنی علت تامہ سے محال ہے۔تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ارواح موجودہ (جو بقول ان کے قدیم سے موجود ہیں ) لاتعداد اور غیر متناہی ہیں۔کیونکہ جب علت تامہ بے انت ہے۔تو معلول بھی بے انت ہونا چاہیئے۔ورنہ لازم آوے گا۔کہ مؤثر کامل کی تاثیر ناقص ہو۔حالانکہ بے انت ہونا ارواح موجودہ کا ہمارے چودہ دلائل سے باطل ہو چکا۔جن کے سوامی دیانند صاحب بھی لاچار اور لا جواب ہو کر رہ چکے۔پس جبکہ روحوں کے بے انت ہونے کے بارے میں یہ دلیل جھوٹی نکلی۔تو ان کو انادی ہونے میں کب سچی ہوسکتی ہے۔علاوہ اس کے مشاہدہ افعال الہیہ کا بھی اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے۔کیونکہ قانون قدرتی کے ہر روز تجربہ اور ملاحظہ نے ہم پر ثابت کر دیا ہے کہ افعالِ الہی مرہون باوقات و موقت بازمنہ ہیں اور اوقات مختلفہ میں ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔کبھی دھوپ ہے، کبھی بادل ہے، کبھی رات ہے، کبھی دن ہے، کبھی غم ہے اور کبھی شادی۔ایک وقت وہ تھا جو ہم معدوم تھے اور اب یہ وقت ہے کہ ہم زمین پر زندہ موجود ہیں اور پھر وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ ہم نہیں ہوں گے اور ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ بارادہ الہی ہو رہا ہے اور ان سب امور اور عوارض کے وہی ارادہ ازلی علت تامہ ہے۔پس اگر بقول مدرس صاحب کے یہ تصور کیا جاوے کہ معیت خالق اور مخلوق کے واجب ہے۔تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ تمام حادثات جو وقتا فوقتا ظہور پکڑتے ہیں۔ہمیشہ ایک حالت پر بنے رہیں اور دنیا ایک ہی دستور پر رہے۔لیکن ہر عاقل جانتا ہے جو عالم متغیر ہے اور تمام اجزاء حوادث کے آنِ واحد میں جمع نہیں ہو سکتے اور کسی مخلوق کو ایک وضع پر قرار نہیں۔پس اس سے بھی ثابت ہوا کہ دلائل پیش کرده مدرس صاحب محض نا چیز اور سراسر غلط ہیں۔