حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 9 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 9

حیات احمد ۹ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ حضرت مسیح موعود کا خاندان جلد اوّل حصہ اوّل میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود کے خاندان کے متعلق تفصیلی حالات یا بحث سے ضرور کنارہ کشی کرتا اگر اس کے محرک بعض اور اسباب نہ ہوتے جن کا ذکر میں ابھی کروں گا۔کیونکہ میرے نزدیک اور شاید تعلیم یافتہ اور صحیح الدماغ طبقہ کے لوگوں کے نزدیک کسی شخص کا سب سے بڑا جو ہر اور خوبی یہ ہے کہ آپ کسی عالی خاندان کا بانی ہو۔اور حضرت مرزا صاحب کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی میں بھی فرمایا - يَنْقَطِعُ آبَاتُكَ وَيُبْدَءُ مِنْكَ بہر حال وہ بجائے خود ایک عظیم الشان خاندان اور نسل کے بانی ہونے والے تھے۔اس لئے اگر ان کے خاندان اور نسب کا میں ذکر نہ کرتا اور اس کی تفصیل اور شرح میں نہ جاتا تو بھی کوئی حرج نہ تھا لیکن مجھے آپ کے خاندان کا ذکر کسی قدر وضاحت سے اس لئے کرنے کی ضرورت ہے کہ اول تو جس حیثیت اور شان سے آپ دنیا میں مبعوث ہوئے ہیں یعنی بطور خدا کے ایک نبی اور برگزیدہ رسول کے اس حیثیت اور شان کے انسان کے لئے ذوالنسب ہونا ضروری ہے۔ہمارے سید و مولى سيد ولد آدم حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دربار ہر قل میں جو استفسارات ابوسفیان سے ہوئے ہیں۔ان میں پہلا اور ضروری سوال یہی ہوا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا نسب کیا ہے۔ابوسفیان نے جو آپ کا سخت منکر اور مخالف تھا جواب میں کہا۔قوم کا بڑا شریف اور نجیب الطرفین ہے۔ہرقل کے سوال کی جڑ یہی تھی کہ وہ جانتا تھا کہ انبیاء اشراف ہوتے ہیں۔تذکره مطبوعه ۲۰۰۴ ء صفحه ۵۳