حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 177
حیات احمد 122 جلد اول حصہ دوم سماج کے سیکرٹری کہلاتے تھے۔ان کے ساتھ اکثر اسلامی مسائل پر اور آریہ سماج کے عقائد مشتہرہ پر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔یہ سلسلہ تنہائی اور خلوت سے نکل کر اب پبلک میں آ گیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولوالعزمی اور بلند ہمتی نے ان مباحثات میں قادیان کے محدود الخیال اور کمزور واقفیت کے آریوں کو چھوڑ کر جناب پنڈت دیا نند صاحب سرسوتی بانی آریہ سماج کو ان مسائل اور عقائد کے تصفیہ کے لئے اپنے مقابل کھڑا کیا۔جو آریہ سماج اور اسلام میں متنازعہ فیہ تھے یہ ۱۸۷۷ء اور ۱۸۷۸ء کا زمانہ ہے۔اس مباحثہ کی ابتدا اس عقیدہ کے اعلان سے ہوئی جو ۷ دسمبر ۱۸۷۷ء کے اخبار وکیل ہندوستان وغیرہ میں آریہ سماج کی طرف سے ہوا تھا کہ 66 ارواح موجودہ بے انت ہیں۔اور اس کثرت سے ہیں کہ پر میشور کو بھی ان کی تعداد معلوم نہیں۔اس واسطے ہمیشہ مکتی پاتے رہیں گے مگر کبھی ختم نہیں ہوں گے۔“ اس عقیدہ کی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیرت ایمانی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لئے جوش اظہار نے آپ کو اخباری دنیا میں اس عقیدہ کی دھجیاں اڑا دینے پر مجبور کیا۔چنانچہ آپ نے ۹ رفروری ۱۸۷۸ء سے لے کر ۹ مارچ ۱۸۷۸ء تک اخبار سفیر ہند امرتسر میں متعدد مضامین لکھ کر ثابت کیا کہ یہ عقیدہ سراسر باطل اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کی ہتک کرنے والا ہے۔پانچ سو روپیہ کا انعامی اعلان جو مضامین اس باطل عقیدہ کی حقیقت کو طشت از بام کرنے کے لئے آپ نے لکھے ان کی قوت اور صحت پر آپ کو ایسا وثوق اور اعتماد تھا کہ آپ نے ان کے جواب دینے والوں کے لئے پانچ سو روپیہ کا انعام مشتہر کر دیا۔جو سفیر ہند مورخہ 9 فروری ۱۸۷۸ء کے ابتدائی صفحوں پر شائع ہوا اس اشتہار کا خلاصہ یہ تھا :- ان مضامین کی تلاش و جستجو سے میں تھک نہیں گیا۔اس نمبر کی اشاعت تک مضامین مل گئے تو وہ بطور ضمیمہ شائع کر دیئے جائیں گے یا جس وقت بھی ملے انہیں شائع کرنے میں تا خیر نہ ہوگی۔وباللهِ التَّوْفِیق۔(ایڈیٹر )