حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 176 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 176

حیات احمد 127 جلد اول حصہ دوم دوسروں کو بھی آپ اسی قسم کی دعاؤں کی تحریک کرتے تھے۔جیسا کہ حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کے وقت آپ نے محض دعا کے لئے کہا اور الہام الہی نے جو ان پر ہوا ظاہر کر دیا کہ حضرت مسیح موعود کی دعا کی حقیقت کیا تھی۔تائید اسلام کے لئے قلمی خدمت کا آغاز قدرت نے آپ کو اسی مقصد عظمی کے لئے پیدا کیا تھا کہ آپ کے ہاتھ پر اسلام کی صداقت اور عظمت کا راز کھولا جاوے اور اسلام کے فیوضات اور زندہ برکات کا ظہور پھر آپ کے ذریعہ سے ہو۔خدا تعالی کی وہ وہی جو آپ پر آئی تھی اس راز کا بخوبی اظہار کرتی تھی۔مگر آپ کے خیال اور و ہم میں بھی یہ بات نہ تھی کہ آپ کسی بڑے کام کے لئے مامور کئے جائیں گے۔اس لئے اسلام کی تائید اور قرآن مجید کی صداقت کے اظہار کے لئے آپ جو تذکرے یا مباحثے کرتے تھے۔وہ اضطراری رنگ رکھتے تھے۔جیسے انبیاء کی شان ہوتی ہے۔جو کلام آپ کے اس وقت یعنی گوشہ تنہائی کا ملتا ہے۔جو تحریر دیکھی جاتی ہے اس میں یہ رنگ نہایت عمدگی سے نمایاں ہو رہا ہے۔تنہائی ہے۔وہ تحریر میں پبلک میں اس وقت آ نہیں رہی ہیں۔مگر قلم نظم یا نثر کے جو کچھ بھی موتی اگلتی ہے اس سے بجز اس کے اور کچھ نہیں نکلتا کہ تائید اسلام ہو۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کی زندگی میں بعض اوقات آپ کو ان مشاغل کی طرف بھی توجہ کرنی پڑتی تھی۔جیسا کہ میں اوپر ذکر کر آیا ہوں۔لیکن آپ کی وفات کے بعد جب دنیوی کا روبار کلیہ آپ کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم نے سنبھال لئے تو آپ کو ہر طرح فرصت ہو گئی اور آپ کے مشاغل تائید دین اور صداقت اسلام کے اظہار میں محدود ہو گئے۔آریہ سماج سے مباحثات کا سلسلہ شروع ہو گیا حضرت اقدس کے پاس لالہ شرمیت رائے اکثر اور بعد میں لالہ ملا وامل اور دوسرے لوگ آتے جاتے تھے۔پنجاب میں آریہ سماج کی تحریک ہو چکی تھی۔لالہ شرمپت رائے قادیان کی آریہ