حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 171 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 171

حیات احمد جلد اول حصہ دوم۔اس کے مقابلہ کے لئے مولوی محمد حسین صاحب کو کبھی جرات نہیں ہوئی دعوت اور تحدی کے الفاظ کی شوکت بجائے خود حضرت مسیح موعود کی اخلاقی قوت اور قلبی شجاعت کا نقشہ کھینچ رہی ہے کہ وہ اپنے دعوی میں کیسے صادق تھے۔انہوں نے اپنی راست بازی کا معیار خدا تعالیٰ کے برگزیدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد عالی کو پیش کیا۔اور اپنی رویا صالحہ کو اس کی نظیر اور تائید میں رکھا۔پھر اُن نازک مواقع کا ذکر کیا جہاں دنیا داروں کے نزدیک بدوں جھوٹ بولنے کے نجات نہیں ہو سکتی تھی۔مگر آپ ن الصِّدْقُ يُنْجِي وَالْكِذَبُ يُهْلِك - ( صدق نجات دیتا اور کذب ہلاک کر دیتا ہے ) ہی کو مدنظر رکھا۔اس تحدی پر اس وقت جبکہ میں یہ لائف لکھ رہا ہوں۔تئیس برس گزر چکے ہیں مگر شدید اور مغضوب مخالف کو حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ اس کی تردید کر سکتا۔پس اب مسیح موعود کی راستبازی کو ہم بطور ایک خیالی امر کے پیش نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے واقعہ کے پیش کرتے ہیں۔جو دنیا میں دلائل کی قوت اور روشنی میں بیان کیا گیا ہو۔بعض واقعات کی مزید تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان نظائر کے بیان کرنے میں بعض امور کی صراحت نہیں کی۔اس لئے کہ وہ امر آپ کے محوظ خاطر نہیں تھا۔یا اس واقعہ کے بیان کرنے کے وقت نفس مطلب سے چنداں تعلق نہ رکھتا تھا۔مگر سوانح عمری کے لحاظ سے ان واقعات کا اظہار از بس ضروری ہے۔با بور لیا رام وکیل امرتسری کے اخبار کے مقدمہ کی نظیر میں مقام فیصلہ نہیں بتایا گیا۔مقدمہ کا فیصلہ، مقام دینا نگر ہوا تھا۔شیخ علی احمد صاحب مرحوم پلیڈ ر آپ کے پیروکار تھے۔مگر جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود اس قانونی مشورہ سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے تو انہوں نے افسوس کے ساتھ علیحدگی اختیار کر لی اور حضرت مسیح موعود ا کیلے ہی پیش ہوئے۔مرزا سلطان احمد صاحب والی نظیر میں جس مکان کا ذکر ہے۔وہ وہی مکان ہے جو قارئین کرام نے جامع مسجد کے پاس ایک بڑی پختہ حویلی کی صورت میں بمقام قادیان دیکھا ہے۔