حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 170 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 170

حیات احمد جلد اول حصہ دوم سی۔ایس۔آئی ہیں۔اور نیز مثل مقدمہ دفتر گورداسپورہ میں موجود ہو گی۔اور دوسرے واقعہ کا گواہ بابو فتح الدین اور خود وکیل جس کا اس وقت مجھ کو نام یاد نہیں۔اور نیز وہ منصف جس کا ذکر کر چکا ہوں جواب شاید لدھیانہ میں بدل گیا ہے۔غالباً اس مقدمہ کو سات برس کے ( آج اس پر شاید بیس برس سے زیادہ گزرے۔ایڈیٹر ) قریب گزرا ہو گا۔ہاں یاد آیا۔اس مقدمہ کا ایک گواہ نبی بخش پٹواری بٹالہ بھی ہے۔اب اے حضرت شیخ صاحب! اگر آپ کے پاس بھی اس درجہ ابتلا کی کوئی نظیر ہو جس میں آپ کی جان اور آبرو اور مال راست گوئی کی حالت میں برباد ہوتا آپ کو دکھائی دیا ہو اور آپ نے بیچ کو نہ چھوڑا ہو اور مال اور جان کی کچھ پراوہ نہ کی ہو تو یہ وہ واقعہ اپنا مع اس کے کامل ثبوت کے پیش کیجئے۔ورنہ میرا تو یہ اعتقاد ہے کہ اس زمانہ کے اکثر ملا اور مولویوں کی باتیں ہی باتیں ہیں ورنہ ایک پیسے پر ایمان بیچنے کو طیار ہیں کیونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کے مولویوں کو بدترین خلائق بیان فرمایا ہے اور آپ کے مجد دصاحب نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم حجج الکرامہ میں تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ آخری زمانہ یہی زمانہ ہے سوایسے مولویوں کا زہد و تقویٰ بغیر ثبوت قبول کرنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کی تکذیب لازم آتی ہے۔سو آپ نظیر پیش کریں اور اگر پیش نہ کر سکیں تو ثابت ہوگا کہ آپ کے پاس صرف راست گوئی کا دعویٰ ہے۔مگر کوئی دعوی بے امتحان قبول کے لائق نہیں۔اندرونی حال آپ کا خدا تعالیٰ کو معلوم ہوگا کہ آپ کبھی کذب اور افترا کی نجاست سے ملوث ہوئے یا نہیں یا ان کو معلوم ہو گا جو آپ کے حالات سے واقف ہوں گے جو شخص ابتلا کے وقت صادق نکلتا ہے اور سچ کو نہیں چھوڑتا اُس کے صدق پر مہر لگ جاتی ہے اگر یہ مہر آپ کے پاس ہے تو پیش کریں ور نہ خدا تعالیٰ سے ڈریں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کی پردہ دری کرئے“۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۹۶ تا ۳۰۱)