حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 166 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 166

حیات احمد ۱۶۶ جلد اول حصہ دوم وقت وہ آزمایا جاتا ہے کہ آیا اس کی سرشت میں صدق ہے یا کذب اور آیا اس نازک وقت میں اُس کی زبان پر صدق جاری ہوتا ہے یا اپنی جان اور آبرو اور مال کا اندیشہ کر کے جھوٹ بولنے لگتا ہے ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۹۲ تا ۲۹۶) ہے۔“ واقعات کی شہادت مسیح موعود کی راستبازی پر اس قسم کے نمونے اس عاجز کو کئی دفعہ پیش آئے ہیں جن کا مفصل ذکر کرنا موجب تطویل ہے تا ہم تین نمونے اس غرض سے پیش کرتا ہوں کہ اگر ان کے برابر بھی آپ کو کبھی آزمائش صدق کے موقع پیش آئے ہیں۔تو آپ کو اللہ جَلَّ شَانُهُ کی قسم ہے کہ آپ ان کو معہ ثبوت اُن کے ضرور شائع کریں تا معلوم ہو کہ آپ کا صرف دعویٰ نہیں بلکہ امتحان اور بلا کے شکنجہ میں بھی آکر آپ نے صدق نہیں توڑا۔“ پہلی نظیر از انجملہ ایک یہ واقعہ ہے کہ میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد مرزا اعظم بیگ صاحب لاہوری نے شرکاء ملکیت قادیان سے مجھ پر اور میرے بھائی مرحوم مرزا غلام قادر پر مقدمہ دخل ملکیت کا عدالت ضلع میں دائر کرا دیا اور میں بظاہر جانتا تھا کہ اُن شرکاء کو ملکیت سے کچھ غرض نہیں کیونکہ وہ ایک گم گشتہ چیز تھی جو سکھوں کے وقت میں نابود ہو چکی تھی۔اور میرے والد صاحب نے تن تنہا مقدمات کر کے اس ملکیت اور دوسرے دیہات کے بازیافت کے لئے آٹھ ہزار کے قریب خرچ و خسارہ اٹھایا تھا جس میں وہ شرکاء ایک پیسہ کے بھی شریک نہیں تھے سو ان مقدمات کے اثناء میں جب میں نے فتح کے لئے دعا کی تو یہ الہام ہوا کہ اُجِيْبُ كُلَّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرُكَائِكَ۔یعنی میں تیری ہر یک دعا قبول کروں گا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں۔سو میں نے اس الہام کو پا کر اپنے بھائی اور تمام زن و مرد عزیزوں کو جمع کیا جو ان میں