حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 165
حیات احمد ܬܪܙ جلد اول حصہ دوم باوجود اشد غلو اور تکفیر اور تکذیب اور تفسیق کے میدان میں نہ آیا اور شغال کی طرح دُم دبا کر بھاگ گیا۔تو وہ مندرجہ ذیل انعام کا مستحق ہوگا۔(ا) لعنت (۲) لعنت (۳) لعنت (۴) لعنت (۵) لعنت (۶) لعنت (۷) لعنت (۸) لعنت (۹) لعنت (١٠) لعنت ( تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَة) یہ وہ فیصلہ ہے۔جو خدا تعالیٰ آپ کر دے گا۔کیونکہ اُس کا وعدہ ہے کہ مومن بہر حال غالب رہے گا چنانچہ وہ خود فرماتا ہے۔لَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا لے یعنی ایسا ہر گز نہیں ہو گا کہ کافر مومن پر راہ پاوے۔اور نیز فرماتا ہے کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورٌ تَمْشُونَ بِہ کے یعنی اے مومنو! اگر تم متقی بن جاؤ تو تم میں اور تمہارے غیر میں خدا تعالیٰ ایک فرق رکھ دے گا وہ فرق کیا ہے کہ تمہیں ایک نور عطا کیا جائے گا جو تمہارے غیر میں ہرگز نہیں پایا جائے گا یعنی نور الہام اور نور اجابت دعا اور نور کرامات اصطفاء۔اب ظاہر ہے کہ جس نے جھوٹ کو بھی ترک نہیں کیا وہ کیونکر خدا تعالیٰ کے آگے متقی ٹھہر سکتا ہے اور کیونکر اُس سے کرامات صادر ہوسکتی ہیں غرض اس طریق سے ہم دونوں کی حقیقت مخفی کھل جائے گی اور لوگ دیکھ لیں گے کہ کون میدان میں آتا ہے اور کون بموجب آیت کریم لَهُمُ الْبُشْرى اور حدیث نبوی اَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا کے، صادق ثابت ہوتا ہے مَعَ هذا ایک اور بات بھی ذریعہ آزمائش صادقین ہو جاتی ہے جس کو خدا تعالیٰ آپ ہی پیدا کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کبھی انسان کسی ایسی بلا میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس وقت بجز کذب کے اور کوئی حیلہ رہائی اور کامیابی کا اُس کو نظر نہیں آتا تب اُس ا النساء ۲۱۴۲ الانفال: ۳۰ الحديد: ٢٩