حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 157 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 157

حیات احمد ۱۵۷ جلد اول حصہ دوم جلد اوّل حصہ دوم اپنی رائے کی مضبوطی اور صداقت کے اس اصل کے بیان کے بعد براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے مولوی محمد حسین صاحب لکھتے ہیں کہ :۔اب ہم اس پر اپنی رائے نہایت مختصر اور بے مبالغہ الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔اور آئندہ کی خبر نہیں۔لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَالِكَ أَمْرًا۔اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی۔جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے۔جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔" مجھ کو ان الفاظ پر کسی بحث کی ضرورت نہیں۔مولوی محمد حسین صاحب حضرت مسیح موعود کی ہر ادا و حرکت اور قول و فعل کو اسلام کی تائید اور نصرت قرار دیتے ہیں اور گویا ان الفاظ میں قُل اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔کی تفسیر کا صحیح مصداق حضرت مسیح موعود کو قرار دیا ہے۔اور پھر مولوی محمد حسین صاحب ان الفاظ میں تحدی کرتے ہیں:۔”ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے۔تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتا دے۔جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً آریہ سماج و برہم سماج سے اس زور وشور سے مقابلہ پایا جاتا ہو۔اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کی نشاندہی کرے۔جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی و قلمی و لسانی کے علاوہ نصرت حالی کا بیڑا اٹھا لیا ہو۔اور مخالفین اسلام اور منکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آ کر اس کا تجربہ و مشاہدہ کرلے اور اس تجربہ و مشاہدہ کا اقوام غیر کو مزا بھی چکھا دیا ہو۔“ یہ الفاظ اپنی تشریح اور توضیح میں صاف ہیں۔اب میں ایک اور مخالف کا بیان درج کرتا ہوں۔