حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 138 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 138

حیات احمد ۱۳۸ جلد اوّل حصہ اول اس کی عاجزانہ حالت پر پکھل گیا اور میں نے حضرت احدیت میں اس کے لئے دعا کی۔چونکہ حضرت احدیت میں اس کی صحت مقدر تھی۔اس لئے دعا کرنے کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔قُلْنَا يَا نَارُ كُونِی بَرد او سَلَامًا۔یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا که تو سرد اور سلامتی ہو جا۔چنانچہ اسی وقت اس ہندو اور نیز کئی اور ہندوؤں کو کہ جواب تک اس قصبہ میں موجود ہیں اور اس جگہ کے باشندے ہیں۔اس الہام سے اطلاع دی گئی۔اور خدا پر کامل بھروسہ کر کے دعوی کیا گیا کہ وہ ہندوضرور صحت پا جائے گا اور اس بیماری سے ہرگز نہیں مرے گا۔چنانچہ بعد اس کے ایک ہفتہ نہیں گزرا ہوگا کہ ہندو مذکور اس جاں گداز مرض سے بکلی صحت پا گیا۔“ براہین احمدیہ صفحه ۲۲۷ و ۲۲۸ ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۵۳٬۳۵۲ حاشیه در حاشیه نمبرا) یہ نشان براہین احمدیہ میں جس کو آج پینتیس برس کے قریب گزرتے ہیں شائع ہو چکا ہے۔لالہ ملا وامل زندہ موجود ہیں اگر اس کو بیٹے کی قسم دے کر کہا جاوے تو وہ اس کا انکار نہیں کرسکتا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے۔کہ اگر اس کو بھی اولاد کی قسم دی جاوے تو پھر ممکن نہیں کہ جھوٹ بولے۔کیونکہ ان لوگوں کو خدا کی نسبت اولا د زیادہ پیاری ہے۔لالہ شرمیت پر اتمام حجت لالہ شرمیت کے بھائی لالہ بشمبر داس کے متعلق ایک پیشگوئی آپ نے کی تھی اور وہ پوری ہوئی۔چنانچہ اس کے متعلق براہین احمدیہ میں آپ نے صراحت سے اس کا شان نزول وغیرہ لکھ دیا ہے۔یہ ۱۸۷۰ء کا واقعہ ہے۔جس ہندو کا ذکر کیا گیا ہے اُس سے مراد لالہ شرمپت رائے ہے جو اب تک زندہ ہیں۔اور جس کے متعلق پیشگوئی تھی وہ ان کے بھائی لالہ بشمبر داس تھے جو فوت ہو چکے ہیں۔آپ نے لکھا ہے۔عرصہ تخمیناً بارہ برس کا ہوا ہے کہ ایک ہندو صاحب کہ جواب آریا سماج قادیان