حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 113 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 113

حیات احمد ۱۱۳ جلد اوّل حصہ اوّل چناں وبائے می افتد۔کہ دوستان را از دوستان و خویشان را از خویشان جدا میکند - و پیچ سالے نہ بینم که این نائره عظیم و چنیں حادثه الیم در آن سال شور قیامت نیفگند۔نظر براں دل از دنیا سرد شده است و رو از خوف جان زرد و اکثر این دو مصرعه شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی بیاد می آیند و اشک حسرت ریختہ مے شود۔مکن تکیه بر عمر نا پائدار مباش ایمن از بازی روزگار و نیز این دو مصرعه ثانی از دیوان فرخ قادیانی نمک پاش جراحت دل میشود بدنیائے دون دل مبند اے جوان کہ وقت اجل میرسد ناگهان لہذا می خواهم که بقیه عمر درگوشه، تنہائی نشینم و دامن از صحبت مردم چینم و بیاد وسبحانه مشغول شوم مگر گذشتہ را عذرے و مافات را تدار کے شود۔بقیہ حاشیہ: کوئی نہ کوئی وباء آجاتی ہے جو دوستوں کو دوستوں سے اور عزیزوں کو عزیزوں سے جدا کر دیتی ہے اور کسی سال بھی میں یہ نہیں دیکھتا کہ یہ بھڑکتی آگ اور یہ دردناک حوادث اس سال شور قیامت بر پا نہیں کرتے ان حالات کو دیکھتے ہوئے دل دنیا سے سرد ہو چکا ہے اور چہرہ اس کے خوف سے زرد۔اور اکثر شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کے یہ دو مصرعے یاد آتے ہیں۔اور حسرت کے آنسو بہتے چلے جاتے ہیں۔مکن تکیه بر عمر نا پائیدار مباش ایمن از بازی روزگار عم ناپائیدار پر تکیہ نہ کر اور روزگار کے اس کھیل سے کبھی اپنے آپ کو امن میں نہ سمجھ۔نیز یہ دو مصرعے فرینچ قادیانی کے دیوان سے دل کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں۔بدنیائے دوں دل مبند اے جوان کہ وقت اجل می رسد نا گہاں اے نوجوان اس گھٹیا دنیا سے دل نہ لگا۔کہ اجل کا وقت اچانک آ جایا کرتا ہے۔لہذا میں چاہتا ہوں کہ میں بقیہ عمر گوشتہ تنہائی میں بیٹھوں اور لوگوں کی صحبت سے دامن بچاؤں اور اللہ سبحانہ کی یاد میں مشغول ہو جاؤں تا گزشتہ پر عذر اور مافات کا تدارک ہو سکے۔(بقیہ اگلے صفحہ پر ) اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرخ تخلص فرماتے تھے۔