حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 112 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 112

حیات احمد میرے جیسے کو جہاں میں تو نے روشن کر دیا کون جانے اے مرے مالک ترے بھیدوں کی سار تیرے اے میرے مربی کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار ابتدا سے گوشہء خلوت رہا مجھ کو پسند شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار جلد اوّل حصہ اول اور متعدد مرتبہ یہ بات آپ نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں ظاہر کی۔غرض جب آپ کی گوشہ گزینی کی طبیعت اور خلوت کی فطرت پر ایک پر زور اثر پڑا اور جذبہ الہیہ سے جب آپ بالکل اللہ تعالیٰ کی طرف کھینچے گئے تو آپ نے حضرت مرزا صاحب قبلہ کو وہ خط لکھا۔جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔حضرت اقدس کا ایک عجیب مکتوب ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو ایک گرامی قدر مکتوب درج کیا جاتا ہے۔اس مکتوب کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ حضور علیہ السلام کس طرح اول عمر ہی سے اس دنیا سے منتظر اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔یہ مکتوب آپ نے اپنے والد ماجد مرزا غلام مرتضی خان صاحب مرحوم کی خدمت میں ایسے وقت میں لکھا تھا۔جب آپ بَدُو شباب میں تھے۔یہ مکتوب بھی آپ کی پاکیزہ فطرتی اور مطہرہ سیرت کا ایک جزو ہے۔اور وہ یہ ہے۔حضرت والد مخدوم من سلامت ! مراسم غلامانه وقواعد فدویانہ بجا آورده معروض حضرت والا میکند - چونکه در این ایام برأي العین می بینم و بچشم سرمشاہدہ میکنم۔کہ در ہمہ ممالک و بلا د ہر سال ترجمہ: مخدوم من حضرت والد صاحب سلامت مراسم غلامانہ اور قواعد فدویانہ بجالاتے ہوئے حضور والا میں معروض ہوں کہ چونکہ ان ایام میں میں برأی العین دیکھتا ہوں اور بچشم سرمشاہدہ کر رہا ہوں کہ تمام ممالک اور بلا د میں ہر سال