حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 100
حیات احمد حضرت مرزا صاحب کی دلچپسی تعبیر الرؤیا سے جلد اوّل حصہ اوّل حضرت مرزا صاحب کو شروع جوانی ہی سے جہاں عبادت اور ذکر الہی کا شوق تھا وہاں خوابوں کی تعبیر اور کیفیت کے سمجھنے کا بھی ایک خاص مذاق اور ملکہ تھا۔گھر والے سب کے سب اور دوسرے لوگ بھی اس بات کے قائل تھے کہ علم تعبیر الرؤیا میں مرزا صاحب کو بہت مہارت ہے اور ان کی تعبیریں صحیح ہوتی ہیں نہ صرف اس علم سے مذاق تھا بلکہ اصل یہ ہے کہ اسی زمانہ سے ہی آپ رویا ء صالحہ دیکھا کرتے تھے اور وہ واقعات میں پوری ہوتی تھیں۔رو با قبول نبوت کے لئے فطری راہ نما ہے بات اصل میں یہ ہے کہ بقدر استعداد ہر شخص کم و بیش صحیح خواب دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اور انسانی فطرت میں یہ مادہ اس لئے رکھا گیا ہے تا وہ امر نبوت کے قبول کرنے پر مکلف ہو۔یہ سچ ہے کہ خواب تو کم و بیش ہر شخص صحیح دیکھ سکتا ہے مگر تھوڑے اور بہت ہی تھوڑے ہوتے ہیں وہ لوگ جو اس لطیف سائنس سے واقف ہوں اور یہ بھی کوئی عجیب بات نہیں ہر شاخ علم کا یہی حال ہے۔النَّاسُ اَعْدَاءُ مَا جَهِلُوا درست قول ہے اللہ تعالیٰ نے نبوت کی صداقتوں کے اثبات کے لئے اور اقلا عجائب احوال کے روبروسر تسلیم خم کرانے کے لئے فطرتِ انسانی میں خواب کا عالم ودیعت رکھ دیا۔یہ قوی دلیل ہے جس کی راہنمائی کی مدد سے سلیم الفطرت انسان نے انبیاء علیہم السلام کی رؤیا و مکاشفات کو تسلیم کیا ہے کسی پر یہ حالت واقع ہو نہ ہومگر اس نے اسے قانون قدرت کے موافق اور ممکن الوقوع ضرور مانا ہے۔حضرت مرزا صاحب کو اس علم کے ساتھ خاص مناسبت تھی جو لوگ آپ کے پاس ابتداء رہا کرتے تھے انہوں نے بتایا ہے کہ صبح اٹھ کر آپ دوسروں سے اُن کی خوا ہیں دریافت کرتے اور اپنی خواہیں سنایا کرتے تھے۔انہیں ایام میں آپ نے ایک رؤیا دیکھی جو آپ کی آئندہ زندگی کے عظیم الشان کام کا ابتدائی نقشہ تھا۔