حیات شمس — Page 695
663 حیات بشمس خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس اور ایسی محبت سے پیش آؤ کہ دنیا کی نظروں میں تم قابل رشک ہو جاؤ۔2۔صفائی کا ہر حال میں خیال رکھو۔اسلام نے صفائی کے متعلق بہت احکام دئے ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التوابين و يُحِبُّ المتطهرين (البقرة:223 ) کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب وہی ہوتے ہیں جو باطنی طہارت اور پاکیزگی اور اسی طرح ظاہری صفائی اور پاکیزگی رکھتے ہیں۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ تم اپنے گھروں کے صحنوں کو بھی صاف ستھرا رکھو۔اہل مغرب صفائی پسند ہیں مگر تم جو احمدی مسلمان ہو چاہئے کہ اپنے گھروں اور اپنے محلہ کو ایسا صاف اور ستھرارکھو کہ وہ دوسروں کے لئے صفائی میں ایک مثال ہو۔اس کا اثر ان لوگوں پر بہت اچھا پڑے گا۔3۔صدق اور دیانت اور امانت کی نہایت اعلیٰ درجہ کی مثال قائم کرو۔تم جس جس جگہ کام کرتے ہو اپنی ڈیوٹیوں کو ایسے شاندار رنگ میں ادا کرو اور جو کام تمہارے سپرد ہو وہ ایسے رنگ میں بجالاؤ کہ تمہارے نگران اور افسر تمہاری تعریف کئے بغیر نہ رہ سکیں۔جب تم اس قسم کی دیانت اور امانت کا مظاہرہ کرو گے تو وہ خود بخود تمہاری طرف متوجہ ہوں گے اور تمہاری باتوں سے متاثر ہوں گے۔4۔جہاں تک ممکن ہو سکے دوسروں کی ہمدردی کرو اور مشکلات کے وقت ایک دوسرے کی امداد کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دس شرائط بیعت میں ایک شرط یہ رکھی ہے کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض لله مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدادا دطاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔5۔مغربی ملکوں کا ماحول اور معاشرہ ایسا ہے کہ انسان کا گناہوں سے بچنا بظاہر محال نظر آتا ہے لیکن اس کے دو علاج ہیں۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہو اور خدا تعالیٰ کی خشیت اور خوف سے اپنے دلوں کو معمور رکھو اور اس کے حاصل کرنے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرتے رہو۔دوسرا طریق گناہوں سے بچنے کا نماز ہے۔پس پنجوقتہ نمازوں کو حضور قلب سے ادا کرو اور جو حقیقت میں نماز کو مدنظر رکھ کر نمازیں ادا کرے گا تو یقینا وہ گنا ہوں کے ارتکاب سے بچ جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: نماز پڑھو نماز پڑھو کہ وہ تمام سعادتوں کی کنجی ہے اور جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو ایسا نہ کر کہ گویا تو ایک رسم ادا کر رہا ہے۔بلکہ نماز سے پہلے جیسے ظاہر وضو کرتے ہو ایسا ہی ایک باطنی وضو بھی کرو اور اپنے اعضاء کو غیر اللہ کے خیال سے دھوڈالو۔تب ان دونوں وضوؤں