حیات شمس — Page 694
حیات بشمس خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 662 کفر و ضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا اور میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہو گا سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کا شکار ہو جائیں گے۔" (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 376-377) اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کا مقصد بھی اشاعت توحید اور دین اسلام پر تمام لوگوں کو جمع کرنا ہے۔جیسا کہ حضور فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں تو حید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کیلئے میں دنیا میں بھیجا گیا ہوں۔سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔“ (رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 306) پس آپ لوگوں کو چاہیئے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو انگلستان میں مادی رزق حاصل کرنے کا موقعہ عطا فرمایا ہے تو آپ اہل انگلستان کو وہ روحانی رزق پیش کریں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آپ کو دیا ہے۔اب میں نہایت اختصار کے ساتھ وہ چند باتیں پیش کرتا ہوں جواس ملک کے باشندوں کیلئے دین اسلام کی طرف متوجہ کرنے کا باعث ہو سکتی ہیں۔1۔ایک دوسرے سے ایسی محبت رکھو کہ جس کی نظیر دوسری قوموں میں نہ مل سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم با ہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشا سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں۔پس اپنے بھائیوں سے ایسا حسن سلوک کرو