حیات شمس — Page 29
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس مولانا شمس کیلئے سید نا حضرت مصلح موعود کی خاص شفقت و محبت 29 20 آپ 11 اگست 1946ء کو لندن سے روانہ ہوئے۔آپ مصر فلسطین ، شام اور عراق میں ٹھہرتے ہوئے ہندوستان پہنچے۔آپ کی آمد پر مدیر الفضل قادیان نے لکھا: الفضل قادیان 12 اگست 1946 ، صفحه 2) أَهْلاً وَسَهْلاً وَمَرْحَبًا۔انگلستان کے کامیاب اور مجسم اخلاق مبلغ جناب مولوی جلال الدین صاحب شمس کی دس سال کے بعد واپسی۔الحمد للہ آج ہم احباب جماعت کو یہ خوشخبری سنانے کے قابل ہوچکے ہیں کہ مکرم و محترم مولوی جلال الدین صاحب شمس امام مسجد احمد یہ لنڈن اور انگلستان کے کامیاب مبلغ جن کی ملاقات کا ہم کئی روز سے بے تابی اور شدت کے ساتھ انتظار کر رہے تھے، لاہور پہنچ چکے ہیں اور کل بروز شنبہ قادیان پہنچیں گے۔ستمبر کے اواخر میں سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ دہلی تشریف لے گئے جہاں تین ہفتے قیام فرمایا۔حضور 15 اکتوبر کو قادیان واپس رونق افروز ہوئے۔13 اکتوبر کی شام حضور دہلی سے امرتسر پہنچے جہاں 15 اکتوبر کو صبح آٹھ بجے مکرم مولانا شمس صاحب اور مکرم السید منیر الحصنی دمشقی سے ملاقات فرمائی جو لا ہور سے وہاں پہنچ چکے تھے۔مولانا شمس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصی اعزاز عطا فرمایا کہ سید نا حضرت مصلح موعود آپ کے استبقال کیلئے خصوصی طور پر دہلی سے تشریف لائے۔(الفضل قادیان14 و16 اکتوبر 1946ء) مغرب سے طلوع شمس کا ایک بطن 16 اکتوبر۔جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ نے حضرت مولانا شمس صاحب اور السید منیر الکھنی صاحب کو چائے کی دعوت دی جس میں سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ( رضی اللہ عنہ ) نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقعہ پر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے عربی میں ایڈریس پیش کیا۔اس تقریب کے آخر میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی (رضی اللہ عنہ نے مختصر تقریر فرمائی جس میں فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی مغرب سے طلوع شمس کا ایک بطن اس وقت شمس صاحب کے ذریعہ پورا ہوا جبکہ وہ مغرب سے آئے۔