حیات شمس — Page 690
حیات بشمس خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس درد کیا چیز ہے دوا کیا ہے 658 کیا کہوں ان سے مدعا کیا ہے مجھ کو خود بھی نہیں پتا کیا ہے حیف صد حیف قوم مسلم پر ابتداء کیا تھی انتہاء کیا ہے تھے جو کل تک خدا شناس افسوس آج وہ کہتے ہیں خدا کیا ہے برہم تو رہتے ہیں لیکن یہ بتاتے نہیں خطا کیا ہے مجھ مانتے یا مانتے آخر سن تو لیتے کہ التجاء کیا ہے کیا کریں گے وہ ہم سے وعدہ وفا جو نہیں جانتے وفا کیا ہے کہہ رہے ہیں آج ہم نہیں جانتے دغا کیا ہے پھر سے دنیا ہے برسر پیکار عقل والو ماجرا کیا ہے خیال کہاں کیا روا اور ناروا کیا ہے اس زمانہ میں بے محابا ملے جو غیروں وہ ނ بھی تقریر ہے کوئی تقریر جو دلوں وہ ہو پر ایسی خاتون کی حیا کیا ہے سننے والے کہیں کہا کیا ہے ہو اثر انداز پھر وہ تفسیر مدعا کیا ہے جو مثل صدا بصحرا ہو وہ صدا کیا ہے وہ ندا کیا ہے ہے گداز سے خالی اے دعا والو جو سوز دیوانگان عشق پوچھ درد وہ دعا کیا کیا چیز ہے دوا کیا ہے پیتے ہیں جب نشہ اتر جائے ایسی مے پینے کا مزہ کیا ہے دل لگاؤ نہ شمس دنیا اس کا انجام جز فنا کیا ہے (الفضل ربوہ 23 جولائی 1956 ء)