حیات شمس

by Other Authors

Page 640 of 748

حیات شمس — Page 640

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 608 دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ ہائیڈ پارک کے مخصوص آوازے کسنے والوں کے مقابلہ میں مسکت جواب دینے والوں میں آپ بہت مشہور تھے۔انگلستان میں یہ گیارہ سال کا لمبا زمانہ اپنے اہل وعیال اور دوستوں سے الگ خصوصاً مہیب اور خوفناک جنگ کے دوران کا عرصہ جس میں انگلستان میں رہنے والوں کی زندگی کے متعلق ایک منٹ کی بھی تسلی نہیں ہو سکتی تھی آپ نے اپنے امام کے حکم کے ماتحت نہایت صبر اور بہادری سے گزارا۔ادھر بمباری ہوتی رہتی اور ادھر آپ مسجد میں اطمینان سے اپنا کام کر رہے ہوتے۔خود ہی نہیں بلکہ آپ وہاں کے دوسرے مسلمانوں کے لئے بھی جو ہر وقت ڈر سے کانپتے تھے ڈھارس اور سہارا کا موجب بنے رہے۔اپنے انگلستان میں قیام کے دوران میں دو کتب الاسلام اور ? Where Did Jesus Die“ تصنیف کیں۔موخر الذکر کتاب پر بہت سے اخبارات نے ریویو لکھے۔اس کتاب کا ترجمہ ملیالم اور ڈچ زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔اسی طرح آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کو بھی وہاں پورا کیا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی قبر کے متعلق ایک لاکھ اشتہار شائع کیا جائے۔آپ اکتوبر 1946ء میں واپس تشریف لائے۔مجھے یاد ہے کہ خدام الاحمدیہ کی طرف سے جو دعوت آپ کے اعزاز میں دی گئی تھی اس میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کہ آخری زمانہ میں طلوع الشمس من المغرب کی تشریح فرماتے ہوئے بیان فرمایا تھا کہ ایک لحاظ سے اس حدیث میں محترم شمس صاحب کے یورپ سے واپس آنے کا بھی ذکر ہے۔لنڈن سے واپسی پر آپ مجلس تحریک جدید کے صدر اور وکیل التبشیر مقرر ہوئے۔ہجرت کے پر آشوب زمانہ میں صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کے واپس آنے کے بعد آخری قافلے کے آنے تک قادیان میں محصور لوگوں کی قیادت کرنے کی بھی سعادت آپ کو نصیب ہوئی۔پاکستان آنے پر آپ 12 سال تک ناظر اعلیٰ بھی رہے اور آپ ہی کے زمانہ میں ربوہ میں آبادی کا افتتاح ہوا اور اب آپ سلسلہ کے اس محکمہ کے انچارج ہیں جس کے سپر د حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور سلسلہ کے دوسرے ضروری لٹریچر کی اشاعت کا کام ہے۔1956ء کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر حضر امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی ایدہ الہ تعالی نے آپ کو ” خالد کے خطاب سے نوازا۔خدا آپ کے قلم میں اور برکت عطا فرمائے۔آمین۔ی مختصر سوانح بیان کرنے کے بعد میں اپنے عزیز طلباء سے عرض کرتا ہوں کہ شمس یونہی نہیں بن جایا