حیات شمس — Page 639
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 607 سید منیر احصنی صاحب اور چند اور مخلص دوست سلسلہ میں داخل ہوئے جس سے سارے شام میں شور برپا ہو گیا۔اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ نے عربی زبان میں ایک کتاب میزان الاقوال لکھی جس میں آپ نے تمام عرب علماء کو چیلنج کیا کہ تم میرے ساتھ دلائل میں مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے کہ میرے امام کے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ آپ کے اتباع ہی غالب رہیں گے۔اور ہو ابھی یہی۔لیکن جب علماء آپ کے مقابلہ میں ٹھہر نہ سکے تو انہوں نے آپ کو جسمانی طور پر مٹانا چاہا اور ایک بے سمجھ انسان نے آپ پر خنجر سے حملہ کر دیا جس سے آپ کے شانہ اور کمر میں زخم آئے اور اس طرح جسمانی طور پر آپ نے اپنا خون اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کیا۔لیکن اس رحیم و کریم ہستی کو ابھی آپ کو اور نو از نا منظور تھا لہذا اس نے اپنے فضل سے آپ کو صحت فرمائی۔شرق الاوسط کے قیام کے دوران میں جو 1931 ء تک رہا متعدد مناظرے مسلمان اور عیسائی علماء سے کئے۔اور عربی زبان میں چودہ کتب و رسائل جو بہائیوں اور عیسائیوں اور مولویوں کے خلاف تھے تصنیف کرنے کی توفیق پائی۔دمشق سے کامیاب واپسی کی خوشی میں لجنہ اماءاللہ قادیان نے دعوت چائے دی اور ایڈریس پیش کیا۔حضور نے فرمایا: میں سمجھتا ہوں خدا تعالیٰ کی یہ بہت بڑی عنایت ہے کہ ہمارے کام کرنے والے لوگ کام سے تھکتے نہیں۔ایک شخص چھ سال کا لمبا عرصہ اپنے وطن سے دُور اور سمندر پار رہا ہو۔وہ امید کر سکتا ہے کہ واپسی پر اسے اپنے رشتہ داروں کے پاس رہنے اور آرام کرنے کا موقعہ دیا جائے۔مگر یہ مردوں اور عورتوں کے لئے تعجب کی بات ہوگی کہ مولوی صاحب جب سے آئے ہیں کل صرف چند گھنٹوں کے لئے اپنے وطن گئے۔کیونکہ آتے ہی انہیں کام پر لگا دیا گیا۔ممبرات لجنہ اور دوسرے دوست دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کے اخلاص میں برکت دے“۔1931ء سے 1936ء تک آپ قادیان میں مختلف خدمات سرانجام دیتے رہے جن میں مقدمہ بہاولپور اور کشمیر کمیٹی کا نام بہت نمایاں ہے۔1936ء کے شروع میں آپ انگلستان کے لئے تشریف لے گئے۔جہاں آپ گیارہ برس تک لنڈن مسجد کے امام کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔آپ نے پہلی بار ہمارے اس مشن کو حقیقی تبلیغی مشن کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے پیش کیا یہاں ہی سے آپ نے شاہ انگلستان، شاہ یوگوسلاویہ اور شاہ زوغو والی البانیہ کو تبلیغی خطوط لکھے۔ہائیڈ پارک میں آپ کے مناظرے اب بھی وہاں یاد کئے جاتے ہیں اور