حیات شمس

by Other Authors

Page 636 of 748

حیات شمس — Page 636

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 604 ہسپتال میں بستر پر پڑا یہ سلسلہ خط و کتابت شروع کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے علاوہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خانصاحب اور حضرت مولانا مولوی جلال الدین صاحب مشمس سب ان میں تھے۔مجھے یاد ہے مارچ کا مہینہ تھا صبح 10 بجے کے قریب کینسر کے ماہر سرجن اپنے ایک سینئر رجسٹرار کے ہمراہ میرے پاس آئے اور آتے ہی دونوں احباب بستر پر بیٹھ گئے۔میرے آپریشن اور بیماری کی نوعیت کے تمام واقعات مجھ پر ظاہر کئے اور نہایت افسوسناک لہجہ میں مجھے چھ ماہ کی زندگی کی مہلت دے کر چلے گئے۔اس موت کا پیالہ سن کر جو میری حالت ہوئی اس موقعہ پر اس کو بیان کرنا میری قوت قلم سے باہر ہے۔کہاں سے الفاظ لاؤں اور کس منہ سے کچھ کہوں۔گویا میں موت کے پردہ میں چُھپ گیا۔یہ موت کا پیالہ سن کر میں نے حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت مولانا شمس صاحب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس کی اطلاع کر دی۔کوئی ہفتہ عشرہ ہی گزرا ہوگا کہ حضرت چوہدری صاحب رضی اللہ عنہ کا خط آیا جس میں رقم تھا کہ ان ماہرین سے پوچھو کہ کیا چھ ماہ کی زندگی کی مہلت کا سرٹیفیکیٹ انہیں خدا نے دیا ہے، میں توجہ سے دعا کر رہا ہوں، خدا تعالیٰ رحم فرمائیگا۔اس کے چند دن بعد مکرم حضرت شمس صاحب رضی اللہ عنہ کا خط بھی آگیا جس میں لکھا تھا ماہرین کی پیشگوئی کی کیا حیثیت۔زندگی اور موت کا معاملہ خدا تعالیٰ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔باقی تو سارے قصے کہانیاں ہیں گھبراؤ نہیں میں التزام کیساتھ دعا کر رہا ہوں۔خدا تعالیٰ رحم کریگا۔حضرت شمس صاحب اپنے خطوط میں بعض قرآن کریم کی دعائیں لکھ دیتے کہ ان دعاؤں کا ورد کرتے رہا کرو۔میرا عقیدہ ہے کہ میں ان صحابہ کرام کی جماعت کی دعاؤں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے بچ گیا مگر اس موقعہ پر ان تمام صحابہ کا ذکر کر نا غرض نہیں۔صرف حضرت مولا نا مولوی جلال الدین صاحب شمس کا تھوڑا سا ذکر کرنا اصل مقصد ہے۔حضرت شمس صاحب خدا تعالیٰ کے فرستادہ تھے۔ان کی قلم اور زبان روح القدس سے مدد پاتی تھی۔خدا ان کی دعاؤں کو سنتا اور قبول فرماتا تھا۔ان کا ہر خط اور ایک ایک لفظ میرے لئے نزول من السماء کا باعث تھا میرے لئے غیر ممکن ہے کہ میں حضرت شمس صاحب کی روحانیت جوفلق اور خو اور محبت اور ہمدردی اور خلائق میں ایک قطب اور ابدال کے مشابہ تھی بیان کر سکوں۔وہ جلیل الشان مہدی علیہ السلام کی تعلیم کے جلیل الشان وارث تھے۔میں حضرت چوہدری صاحب اور حضرت شمس صاحب اور صحابہ کرام کی دعاؤں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس موذی مرض سے بچ گیا اور کچھ نہیں۔( تحریر محررہ 29 جون 2010ء بنام مکرم منیر الدین صاحب شمس)