حیات شمس — Page 590
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 558 طبیب تھے۔آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا۔خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب بڑی کثرت سے پڑھا کرتے تھے اور اکثر حضور علیہ السلام کے عربی قصائد کے اشعار گنگناتے رہتے تھے۔ایک دفعہ میرے والد صاحب نے مولانا جلال الدین صاحب شمس کو دعوت پر بلایا اور بازار سے ان کے لئے مٹھائی لے کر آئے لیکن مولانا صاحب کسی وجہ سے چند دن تک نہ آ سکے۔میری والدہ نے وہ مٹھائی گھر میں ایک اونچی جگہ پر رکھ دی تا کہ کوئی اسے نہ چھیڑے۔میں آتے جاتے کسی نہ کسی چیز کے بہانے اس مٹھائی سے تھوڑا تھوڑا کھاتا رہا۔چنانچہ جب مولانا صاحب ہماری دعوت پر تشریف لائے اور گھر والوں نے مٹھائی پیش کرنا چاہی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس میں سے صرف ایک چوتھائی حصہ رہ گیا تھا۔پھر شاید میرے والد صاحب ان کے لئے بازار سے مزید مٹھائی لائے تھے۔ایک دفعہ مولانا جلال الدین صاحب شمس گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران کچھ عرصہ کے لئے ہمارے گھر پر ٹھہرے۔ہم روزانہ نماز فجر کے بعد سمندر پر جا کر تیرا کی کیا کرتے تھے۔میں نے اسی سال تیرا کی سیکھی تھی۔میرے والد صاحب کے بعد میرے چچانے بیعت کی اور ان کے ساتھ صرف دو خاندانوں کے علاوہ ( اور ان دو خاندانوں نے 1948ء میں بیعت کر لی تھی ) باقی تمام اہل کہا بیر نے بھی بیعت کر لی۔اس سے قبل وہ شاذلی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔مولا نا جلال الدین صاحب شمس ایک دفعہ مصر تشریف لے گئے اور وہاں جماعت کی بنیاد ڈالی۔وہاں آپ نے مکارم اخلاق سوسائٹی میں خطاب فرمایا۔آپ کے خطاب کے دوران جامعہ الازہر کے ایک شیخ تشریف لائے اور بلند آواز سے کہا کہ اے مقرر رُک جا۔لوگوں نے سمجھا کہ شیخ صاحب نے اس بات سے لیکچر سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔لیکن تھوڑی دیر کے بعد ان شیخ صاحب نے کہا کہ اے مقرر اپنا خطاب جاری رکھو کیونکہ ہمیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ہمارے درمیان ابن عباس خطاب فرما رہے ہوں۔اس دورہ کے بعد جب آپ حیفا تشریف لائے تو اہل کہا بیر مردوں عورتوں اور بچوں نے آپ کا پر جوش استقبال کیا۔وہ یہ عربی قصیدہ پڑھ رہے تھے۔طلع البدر عـــــليــــنـــــــا مــــن ثـنيـــــــات الوداع وجب الشـ ب الشكــر عـلينـــامـــا الـــــــه داع مولانا جلال الدین صاحب شمس کا حیفا میں پہلا مناظرہ شیخ کامل القصاب کے ساتھ ہوا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔یہ شیخ شام سے بھاگ کر آیا تھا اور فرانسیسی قابضوں کے خلاف