حیات شمس — Page 581
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 549 (1) حضرت مولانا شمس صاحب بچپن میں بہت کمزور تھے۔وہ قادیان سے کافی دور پڑھنے کیلئے جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ بہت تیز آندھی چلی مولانا شمس صاحب اپنے کزنوں ( چچا کے بیٹوں ) کے ساتھ پڑھنے جاتے تھے اور وہ کافی دور پیدل چل کر جاتے تھے۔جس دن بہت تیز آندھی چلی تو ان کے والد ماجد محترم امام الدین صاحب اور چچا اور تایا خیر الدین اور جمال الدین بھی اپنے بچوں کو ڈھونڈ نے چل پڑے کیونکہ وہ بچے بہت کمزور تھے اور ان کے والدین کو فکر تھی کہ آندھی ان کو اڑا کر نہ لے جائے۔سو جب وہ سب ڈھونڈنے نکلے تو وہ سب مولانا جلال الدین شمس صاحب اور ان کے کزن ایک درخت کے ساتھ زور سے پکڑ کر کھڑے تھے تا کہ آندھی ان کو اڑا کر نہ لے جائے۔ایک دن مولانا شمس صاحب نے اپنے والد محترم سے فرمایا کہ میں اب پڑھنے نہیں جایا کروں گا یہ سننے کی دیر تھی حضرت میاں امام الدین صاحب نے ان کے منہ پر زور سے تھپڑ مارا کہ یہ میں دوبارہ نہ سنوں۔آپ اکثر ذکر کرتے کہ یہ طمانچہ میرے لئے رحمت کا موجب تھا کہ ایک چھوٹے سے گاؤں کا آدمی اتنے بڑے لوگوں سے ملتا ہے اور اللہ نے اتنی عزت دی۔(2) جب مولانا جلال الدین شمس صاحب لندن چلے گئے تو آپ کے والد محترم سیکھواں چھوڑ کر قادیان منتقل ہو گئے۔قادیان میں مولانا شمس صاحب نے ایک گھر بنایا اور اس گھر میں آپ کی ہلیہ، بیٹا، بیٹی بھائی اور بہن عائشہ بیگم بھی رہتی تھیں اور حضرت میاں امام الدین صاحب بھی رہتے تھے۔گھر کا نقشہ کچھ اس طرح تھا سب سے اوپر والے پورشن میں مولا نا جلال الدین شمس صاحب کی فیملی رہتی تھی (مولانا شمس صاحب، سعیده بیگم صاحبہ، جمیلہ شمس صاحبہ ، ڈاکٹر صلاح الدین شمس صاحب۔فلاح الدین صاحب شمس 1947ء میں قادیان ہی میں پیدا ہوئے تھے اور وہ بھی ان کے ساتھ تھے ) نیچے والے پورشن میں ان کی بہن یعنی میری والدہ صاحبہ عائشہ بیگم اپنے بچوں کے ساتھ اور حضرت مولوی امام الدین صاحب اور ان کی اہلیہ رہتے تھے۔(3) مولانا شمس صاحب جب لندن گئے تو ان کے جانے کے پانچ یا چھ سال بعد ان کے بھتیجے حمید احمد جو کہ بشیر احمد صاحب کا بیٹا تھا کی شادی تھی 18 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ان کی شادی پر حضرت میاں امام الدین صاحب اچانک بیمار ہو گئے ان کا پیٹ خراب تھا۔صرف آٹھ یا دس دن بیمار ہوئے۔بیمار ہونے سے یعنی اپنی وفات سے چھ مہینے پہلے حضرت امام الدین صاحب نے خواب دیکھا کہ وہ اس دنیا سے جارہے ہیں اس لئے انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو خط لکھا کہ اب اتنے سال ہو گئے ہیں