حیات شمس — Page 579
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 547 مجھ سے والد محترم کو بہت پیار تھا جمیلہ نام بھی آپ نے ہی رکھا۔ایک دفعہ مجھے شادی سے پہلے بہت بُرا املیریا بخار ہوا اور اس بخار کے دوران ڈاکٹروں نے بہت بے احتیاطی کی اور ملیر یا بگڑ گیا اور اتنا بگڑ گیا کہ لگتا تھا کہ خدانخواستہ موت بھی واقع ہو جائے گی۔اس وقت خواب دیکھا کہ بہت بڑا میز ہے اور میں نے بہت سا پھل کھایا ہے تو ابو پریشان ہوئے کہ شاید جنت کا پھل ہے اور وفات قریب ہے۔اسی وقت حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو بلوایا۔میں بستر پر لیٹی تھی اور میرے ارد گر دسب لوگ جمع تھے امی ، ابو اور بہن بھائی لیکن اب کی قبولیت دعا سے بفضل خدا میں بالکل ٹھیک ہوگئی۔الحمدللہ علی ذالک۔والدہ محترمہ نے بہت قربانیاں کیں۔ابو نے اپنی وفات سے کچھ دیر پہلے کوئٹہ میں ایک خطبہ کے دوران اپنی اہلیہ کی قربانیوں کی بہت تعریف کی کہ میں آج جو خدمات سلسلہ کے اس مقام پر فائز ہوں اس میں میری بیوی کی بہت سی قربانیوں کا بھی دخل ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔آمین۔نامور خادم احمدیت مکرمہ عقیله شمس صاحبہ بنت مولا نائٹس صاحب) عاشق محمود، نامور خادم احمدیت، جید تبحر عالم، ممتاز خطیب و مقرر، بہترین منتظم، سلسلہ احمدیہ کے جان نثار خادم ، صاحب کشوف و رؤیا اور صالح بزرگ عالم روحانیت کے شہسوار، خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کی اندوہناک وفات حسرت آیات سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ایک عظیم صدمہ اور زلزلہ کی حیثیت رکھتی ہے۔حضرت شمس صاحب کی وفات بلا شبہ ایک قومی نقصان کی حیثیت رکھتی ہے۔آپ سلسلہ احمدیہ کے چوٹی کے عالم اور محقق تھے۔سلسلہ احمدیہ کے مختلف انتظامی شعبوں کی راہنمائی اور نگرانی کرتے ہوئے آپ نے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔خصوصاً سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی آخری علالت کے دوران آپ نے حضور کے دست راست بن کر حضور ہی کی ہدایات کے مطابق جماعتی تنظیم و تربیت کیلئے بے نظیر خدمات سرانجام دیں۔خدا تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ تک کیلئے آپ کو بلا دعر بیہ اور انگلستان میں حق وصداقت کی منادی کرنے اور تشنہ روحوں کی پیاس بجھانے اور حق و صداقت کی متلاشی اور تڑپتی روحوں کی ہدایت کیلئے