حیات شمس — Page 567
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 535 اس خوبی سے قلع قمع کرنا، خراج تحسین لئے بغیر نہیں چھوڑتا۔جزاہ اللہ احسن الجزاء۔میرا ارادہ تھا کہ مارچ کے رسالہ میں یہ جواب نکال دوں مگر مذہبی کانفرس لاہور کا مضمون ” مقصد مذہب مل گیا۔اس کی اشاعت کو میں نے مقدم کیا اور اب رسالہ میں یہ جواب شائع کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو ایک جہان کیلئے ہدایت کا موجب بنائے۔“ ریویو آف ریلیجنز قادیان اپریل 1924 ، صفحہ 2) (نوٹ: آپ کی کتاب ” کمالات مرزا کا تعارف علمی کارناموں کے باب میں پیش کیا گیا ہے۔) میرے ہم مکتب حضرت مولانا غلام احمد صاحب مجاہد بد و ملهوی) حضرت مولانا شمس صاحب مبلغین کلاس قادیان کے اولین طلباء میں سے تھے۔اس سلسلہ میں آپ کے ایک ہم مکتب تحریر فرماتے ہیں : مارچ 1923ء میں آریہ سماج کی طرف سے شدھی کا فتنہ کھڑا کر دیئے جانے کی وجہ سے اس کلاس ( مبلغین کلاس جس کا آغاز جون 1920ء میں ہوا تھا۔مرتب) کو ختم کر دیا گیا اور مولانا شمس صاحب کو آگرہ میں۔مولانا ظہور حسین صاحب فاضل کو ضلع جیتوں میں۔خاکسار غلام احمد بدوملہی کو تحصیل شکر گڑھ میں اور مولوی ظل الرحمن صاحب کو اوّل آگرہ پھر بنگال میں۔مولوی محمد شہزادہ خان صاحب کو صوبہ سرحد میں تبلیغی کام سپر د کیا گیا۔شمس صاحب مرحوم حلیم، بر دبا دطبیعت کے مالک تھے۔اتنالمبا عرصہ اپنے ہم کلاس وہم سکول اپنے مناظرات میں ساتھ شامل ہونے کے لیے تجربہ میں میں نے انہیں ہمیشہ ہی ایسا پایا۔لڑائی جھگڑے سے انہیں شدید نفرت تھی۔مناظرات میں مخالف کے نامناسب انداز اور بیہودہ مذاق و تمسخر کو طرح دے جاتے حالانکہ جوان عمر تھے، شعر گوئی بھی کرتے تھے ، خوب جواب دے سکتے تھے اپنے بعض ساتھیوں کو ترکی بہ ترکی مخالفوں کا مونہہ بند کرتے دیکھتے بھی تھے مگر خود کبھی یہ انداز نہ برتتے تھے۔صرف سوال و جواب اور حوالہ جات دینے پر اکتفا کرتے۔مباحثہ عالم پور کوٹلہ اور میدان شدھی میں 1924ء کے بعض مناظروں میں میں نے یہ بات بھی خاص طور پر دیکھی کہ میدان مناظرہ سے واپسی پر جب ساتھ کے دوست خوش ہورہے تھے یا