حیات شمس — Page 556
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس کا بیٹا گھر آیا اور اپنی والدہ سے کہنے لگا اماں! ابا کسے کہتے ہیں؟ سکول میں سارے بچے ابا ، اتبا کہتے ہیں ہمیں پتا نہیں کہ ہمارا ابا کہاں گیا ہے؟ کیونکہ وہ بچے ابھی تین تین چار چار سال کے ہی تھے کہ شمس صاحب یورپ تبلیغ کے لئے چلے گئے اور جب وہ واپس آئے تو وہ بچے سترہ سترہ، اٹھارہ اٹھارہ سال کے ہو چکے تھے۔اب دیکھ لو یہ ان کی بیوی کی ہمت کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ ایک لمبے عرصہ تک تبلیغ کا کام کرتے رہے۔اگر وہ انہیں اپنی درد بھری کہانیاں لکھتی رہتی تو وہ خود بھاگ آتے یا سلسلہ کو مجبور کرتے کہ انہیں بلا لیا جائے“۔524 ( خطاب فرمودہ 21 اکتوبر 1956 ء بر موقع سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ ) یدنا الثائر سید نا حضرت خلیفة امسح الثالث ہمارے بزرگ، ہمارے بھائی ہمارے دوست۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے وصال کے موقع پر خطبہ جمعہ میں آپ کے غیر معمولی طور پر اخلاص و وفا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَلِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن : 27-28) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو بیماریوں اور امراض کیلئے شفا قرار دیا ہے۔یہ کتاب عظیم انسان کی اخلاقی بیماریوں کو بھی دور کرتی ہے اور ان زخموں کیلئے بھی جو انسان اپنی فطرت اور طبیعت کے تقاضا کے مطابق محسوس کرتا ہے اور اسے تکلیف پہنچاتے ہیں بطور پھایہ کے کام آتی ہے۔ہمیں کل اپنے ایک اچھے دوست، پایہ کے عالم، خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق اور احمدیت کے فدائی کا صدمہ پہنچا ہے اور فطرتا ہمیں اس سے غم اور دکھ محسوس ہوتا ہے۔لیکن ہم خدا تعالیٰ کی کتاب کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اپنے رب سے تسکین حاصل کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان دو آیات میں جو میں نے ابھی پڑھی ہیں فرماتا ہے کہ: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ زمین پر ہر چیز جو پائی جاتی ہے وہ فنا ہونے والی ہے سوائے ان باتوں ، اشیاء اور وجودوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ باقی رکھنا چاہیے۔وہ خدا ذو الجلال بھی ہے اور ذوالاکرام بھی ہے۔ان