حیات شمس — Page 555
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 523 جنہوں نے پندرہ پندرہ سال اپنوں سے مہجوری اختیار کر کے خدمت دین کی سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے جنوری 1956ء میں جامعۃ المبشرين ربوہ کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایک ہجرت قومی ہوتی ہے اور ایک ہجرت فردی ہوتی ہے۔حکیم فضل الرحمن صاحب مرحوم، مولوی محمد شریف صاحب ، مولوی جلال الدین صاحب شمس اور اسی طرح ہمارے دوسرے مبلغوں نے اپنے وطن سے دس دس پندرہ پندرہ سال مہجوری اختیار کر کے دوسرے ممالک میں دین کی خدمت کا فریضہ ادا کیا وہ فردی ہجرت کا ہی ایک نمونہ ہے۔ان سب کی مثالیں تمہارے سامنے ہیں۔ان قربانیوں کے تسلسل کو قائم رکھنا تمہارا کام ہے۔اگر قربانیوں کا یہ تسلسل جاری رہے تو پھر فکر کی ضرورت نہیں کیونکہ ایسی قوم کبھی ضائع نہیں ہوسکتی جوقر بانیوں کے تسلسل کو جاری رکھتی ہے۔یعنی ان قربانیوں کا سلسلہ ایک نسل سے دوسری میں منتقل ہوتا چلا جاتا ہے تو پھر اس قوم کا ہر فرد بجائے خود ایک امت کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور اس کو ایک طرح سے دائمی زندگی حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ فردمر سکتے ہیں امتیں نہیں مرسکتیں۔66 الفضل ربوہ 17 جنوری 1956 ءصفحہ 1 و8 ) جو دس دس پندرہ پندرہ سال تک بیرون ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہے سید نا حضرت مصلح موعود درضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وو مردوں سے کام لینا بھی عورتوں کو آتا ہے۔وہ انہیں تحریک کر کے قربانی کے لئے آمادہ کر سکتی ہیں اور اس کی ہمارے ہاں بہت سی مثالیں موجود ہیں۔عورتوں نے اپنے مردوں کو تحریک کی اور انہوں نے قربانیاں کیں۔آخر دیکھ لو ہمارے مبلغ ایسے ہیں جو دس دس پندرہ پندرہ سال تک بیرون ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہے اور وہ اپنی نئی بیاہی ہوئی بیویوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ان عورتوں کے اب بال سفید ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنے خاوندوں کو کبھی طعنہ نہیں دیا کہ وہ انہیں شادی کے معا بعد پیچھے چھوڑ کر لمبے عرصہ کے لئے باہر چلے گئے تھے۔ہمارے ایک مبلغ مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں۔وہ شادی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی یورپ تبلیغ کے لئے چلے گئے تھے۔ان کے واقعات بھی سن کر انسان کو رقت آجاتی ہے۔ایک دن اُن