حیات شمس — Page 518
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 486 کہ موجودہ عیسائیت کی موت اسی ایک بات میں مضمر ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ حضرت مسیح صلیبی موت سے بچ گئے تھے اور آخر کار طبعی وفات پائی اور یہ مسئلہ عیسائیان یورپ کیلئے انشاء اللہ تعالیٰ ایسا ہی مفید و مؤثر ثابت ہوگا جیسا کہ مسلمانان ہند کیلئے حضرت مسیح کی طبعی وفات کا مسئلہ مؤثر ثابت ہوا۔یہ کتاب بارہ ابواب پر مشتمل ہے۔باب اول میں انا جیل سے پانچ دلائل دیئے گئے ہیں جن سے ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح صلیب سے زندہ اتار لئے گئے تھے۔دوسرے باب میں اناجیل کی شہادت کو ایک مقدمہ کی صورت میں لکھا گیا ہے جس کا دو جوں نے فیصلہ کیا ہے۔فیصلہ میں چاروں مؤلفین اناجیل کے بیانات میں جو اختلافات اور تناقضات متعلقہ واقعہ صلیب میں پائے جاتے ہیں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔تیسرے باب میں سڈنی کے ایک حج اور ایک مشہور جرمن پروفیسر کی انجیلی بیان کی معقول تشریح کی گئی ہے جس میں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ مسیح صلیب پر سے زندہ اتار لئے گئے تھے اور آخر کار طبعی وفات پائی۔چوتھے باب میں سویڈن کے ایک مشہور ڈاکٹر کی تحقیق درج کی گئی ہے جس میں اناجیل کی عبارات متعلقہ واقعہ صلیب کی طبی لحاظ سے تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرے تھے۔پانچویں باب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مسیح آسمان پر نہیں گئے۔چھٹے باب میں اس امر پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے کہ مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت اور ان کے آسمان پر جانے کا عقیدہ عیسائیوں میں کیسے پھیلا۔ساتویں باب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دوسری بہت پرست اقوام جن کی خاطر یہ عقائد اختراع کئے گئے وہ اپنے دیوتاؤں کے متعلق پہلے سے ہی ایسے عقائد رکھتی تھیں۔آٹھویں باب میں کفارہ کی تردید کی گئی ہے۔نویں باب میں مسیح کے ہندوستان جانے کا ذکر ہے۔مسیح کے حقیقی مشن اور کشمیریوں اور افغانوں کے بنی اسرائیل ہونے پر تاریخی لحاظ سے بحث کی گئی ہے اور یہ کہ مسیح کی آمد کے وقت وہ ہندوستان اور افغانستان میں آباد تھے۔دسویں باب میں بدھوں کی قدیم اور پرانی تحریروں پر بحث کی گئی ہے جن میں حضرت عیسی کے ہندوستان جانے کا ذکر ہے۔گیارہویں باب میں یورپین مؤلفوں کے خیال کی تردید کرتے ہوئے بدلائل قویہ ثابت کیا گیا ہے کہ یوز آسف اور حضرت عیسی علیہ السلام ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔نیز سری نگر کشمیر میں جو قبر یوز آسف کی پائی جاتی ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی قبر ہے۔بارہویں باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیشگوئی کی عظمت کا ذکر کیا گیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کسر صلیب کریں گے اور بتایا ہے کہ وہ مسیح موعود آچکا ہے اور اس نے مسیح علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے اور اس کی قبر کی نشاندہی کرنے سے اس پیشگوئی کی صداقت پر مہر لگادی ہے۔