حیات شمس — Page 8
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس کشمیر سے سیکھواں 8 وادی کشمیر جنت نظیر سے ہندوستان کی طرف ہجرت کا سلسلہ کئی صدیوں پر محیط ہے۔سکھوں کے عہد حکومت سے لیکر انگریز راج تک اور 1947 ء کی برصغیر کی تقسیم سے لیکر موجودہ ہندوستان کی کانگرس گورنمنٹ تک یہ سلسلہ جاری ہے۔مؤرخ کشمیر منشی محمد دین صاحب فوق جنہوں نے کشمیر کی تاریخ نویسی میں عمر گزار دی اور چالیس سے زائد کتب کشمیریات پر تحریر کیں ، نے اپنی کتاب ” تاریخ اقوام کشمیر میں سینکڑوں خاندانوں کا تذکرہ کیا جو کشمیر سے ہجرت کر کے ارض ہند کی مختلف ریاستوں اور اضلاع میں آکر آباد ہوگئے تاہم حتمی طور پر سیکھوانی خاندان کے بارہ میں معلوم نہیں ہوسکا کہ کب یہ خاندان پنجاب میں آکر آباد ہوا۔البتہ بعض اندازے بیان کئے جاتے ہیں۔حضرت میاں محمد صدیق صاحب وائیں حضرت میاں محمد صدیق صاحب وائیں دادا حضرت مولانا شمس صاحب موضع بالحجہ ہالن ژمر ) ناروا و تحصیل کولگام ضلع اننت ناگ اسلام آباد ( مقبوضہ کشمیر) کے باشندہ تھے۔اغلبا ڈوگرہ راج میں جب کشمیر میں قحط سالی ہوئی تو وہاں سے ہجرت کر کے ہند پنجاب میں آباد ہو گئے اور پہلے بمقام راجہ ساہنسی ضلع امرتسر میں قیام کیا۔بعد ازاں تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں سیکھواں میں آکر مقیم ہو گئے اور قادیان میں بھی اس خاندان کی آمد ورفت با قاعدہ جاری ہوگئی۔حضرت خواجہ محمد صدیق صاحب وائیں کی شادی خواجہ محمد شریف صاحب آف قادیان کے دادا میاں نظام الدین صاحب کی ہمشیرہ محترمہ شرف بی بی صاحبہ سے ہوئی جنہیں صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ان کے بطن سے حضرت میاں جمال الدین صاحب، حضرت میاں امام الدین اور حضرت میاں خیر الدین صاحبان سیکھوانی پیدا ہوئے۔نیز حضرت امیر بی بی عرف مائی کا کو پیدا ہوئیں، جنہوں نے بیوگی کے بعد اپنی ساری زندگی حضرت اماں جان اور بچگان کی خدمت میں گذار دی۔( آپ سے مروی کئی روایات سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر میں محفوظ ہیں ) آپ کا وصال قیام پاکستان کے بعد ہوا۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔