حیات شمس — Page 462
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 446 اس سے ظاہر ہے عورت کو مرد سے بہت نیچا اور ذلیل سمجھا گیا ہے اور جیسے اور چیزیں اس مرد کیلئے اس جہان میں پیدا کی گئی ہیں ویسے ہی عورت بھی اس کیلئے پیدا کی گئی ہے۔پھر لکھا ہے: عورتیں کلیسیا کے مجمع میں خاموش رہیں کیونکہ انہیں بولنے کا حکم نہیں بلکہ تابع رہیں جیسا تو رات میں بھی لکھا ہے۔اور اگر کچھ سیکھنا چاہیں تو گھر میں اپنے شوہر سے پوچھیں کیونکہ عورت کا کلیسیا کے مجمع میں بولنا شرم کی بات ہے۔جو باتیں میں تمہیں لکھتا ہوں وہ خداوند کے حکم ہیں اور اگر کوئی نہ جانے تو نہ جانے۔“ عہد نامہ جدید، 1 کرنتھیوں 34:14-38) لیکن اس کے مقابلہ میں اسلام میں ہم دیکھتے ہیں کہ عورتیں مسجد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیا کرتیں اور آپ جواب دیتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی حضرت عائشہ کے متعلق صحابہ کو فرمایا کہ تم نصف دین ان سے سیکھو۔چنانچہ بڑے بڑے صحابہ مشکل اور پیچیدہ مسائل میں آپ سے فتویٰ پوچھا کرتے تھے۔لیکن عیسائیت عورت کو سکھانے کی اجازت دینا تو کجا وہ تو اسے سوال پوچھنے کی بھی اجازت نہیں دیتی مگر باوجود اس کے یورپین مؤلفین کا یہ لکھنا کس قدر ظلم اور خلاف واقعہ ہے کہ اسلام عورتوں میں نہ روح کا قائل ہے اور نہ ان کے جنت میں جانے کا۔اسی طرح میں نے ایکٹن ایلنگ براڈوے روٹری کلب ، چیٹیم روٹری کلب کلیپیہم اور وانڈ زورتھ اور دیگر بہت سے روٹری کلبوں میں اسلام کے موضوع پر لیکچر دیئے۔ایکٹن روٹری کلب میں جو میں نے اسلام کے موضوع پر مقالہ پڑھا تو کلب کے ایک ممبر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: میں مصر اور اس کے ریگستانوں میں بھی رہا۔سنوسیوں سے بھی ملا لیکن اسلام کی صلح کن تعلیم ,, جو میں نے آج سنی ہے پہلے کبھی سننے کا موقعہ نہیں ہوا۔“ اسی طرح دوسری سوسائیٹیوں مثلاً تھیوسوفیکل سوسائیٹی ، ویمبلی انٹرنیشنل فرینڈ شپ لیگ، ورلڈ کانگرس آف میتھس ، سوسائٹی فار دی سٹڈی آف ریلیجنز وغیرہ کی دعوتوں پر لیکچر دیئے جاتے ہیں اور اسلام کی صحیح تعلیم پیش کی جاتی ہے۔بعض غلطیوں کی اصلاح بعض وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوسرے مسلم لیکچرار عیسائیوں سے مرعوب ہوکر اسلام کے بعض عقائد کو بگاڑ کر پیش کرتے ہیں اور ہمیں ان کے مقابلہ میں آواز اٹھانی پڑتی ہے اور ہم اسلام کا صحیح نقطہ نظر پیش